خطبہ حجة الوداع
ہمارے نبی ﷺ نے آخری حج کے موقع پر عرفات جبل رحمت کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کو خطاب فرمایا ۔ اس خطاب کو خطبہ حج الوداع کہا جا تا ہے ۔ جو بنی نوع انسان کےلئے ایک لا زوال جامع منشور اور لائحہ عمل ہے ۔
انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ عظیم خطبہ اصول اخلاقیات اور ضوابط حسن معاشرت ومملکت کا ایسا فکر انگیز دل آویز اور جامع دستور حیات ہے ۔ جو چودہ صدیاں گزرجانے کے بعد آج بھی حرف آخر ہے ۔ اور دائمی انسانی منشور کی حیثیت سے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو ! اللہ کا ارشاد ہے :
ترجمہ : کہ انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مردد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ، تم میں زیادہ عزت اور کرامت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے، جو اللہ سے ڈرنے وا لا ہو اور اس کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہو ، اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ، اور نہ کا لا گورے سے افضل ہے نہ گوراکالے سے ، ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ، انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے اب فضیلت اور برتری کے سارے دعوے ، خون ومال کے سارے دعوے میرے پیروں تلے روند ے جا چکے ہیں ۔ پھر آپ ﷺ فرمایا ۔

قریش کے لوگو ! ایسا نہ ہو کہ اللہ کے حضور تم اس حال میں آؤ کہ تمھاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامان آخرت لے کر پہونچیں ۔ اگر ایسا ہوا تو میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا ۔

قریش کے لوگو ! اللہ نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کرڈالا ہے اور باپ دادا کے ناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔

لوگو ! تمہارے خون ومال اور عزتیں ایک دوسرے پرہمیشہ کےلئے قطعاً حرام کردی گئیں ہیں ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسے تمہارے اس دن کی اور اس ماہ مبارک کی (ذی الحجہ ) کی خاص کر اس شہر میں ہے ۔ تم سب اللہ کے آگے جاؤگے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت باز پُرس فرمائے گا۔ دیکھو تم کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس ہی میں خون خرابہ کرنے لگو ، اگر کسی کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ امانت والے کو امانت پہنچادے ۔

لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اپنے غلاموں کا خیال رکھو ، انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ۔ ایسا ہی پہناؤ جیسا تم پہنتے ہو ۔ دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں سے رونددیا ۔ زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کا لعدم ہیں ، پہلا انتقام جسے میں کا لعدم قرار دیتا ہوں میرے اپنے خاندان کا ہے ربیعة بن الحارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مارڈالا تھا، اب میں اس کومعاف کرتا ہوں ۔ دور جاہلیت کا سود اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا پہلا سود جسے میں چھوڑ تا ہوں ، وہ عباس بن عبد المطلب کے خاندان کا سود ہے۔

لوگو! اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق خود دے دیا ہے ، اب کو ئی کسی وارث کےلئے وصیت نہ کرے ،ہر بچہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر پیدا ہو گا ، اور جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے قرض اور عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چائے ، اور جو کو ئی کسی کاضامن بنے وہ تاوان اداکرے۔ اور کسی کےلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھا ئی سے کچھ لے ، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو او ر خوشی خوشی دے ۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔

عورت کےلئے یہ جائز نہیں کہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیرکسی کو دے ۔ دیکھو ! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں اسی طرح ان پر تمہارے حقوق ہیں ۔ تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے ہو اور وہ کوئی خیانت نہ کریں ، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں۔

لوگو! عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو وہ تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتیں ، چنانچہ ان کے بارے میں اللہ کا خوف رکھو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا ہے اور اسی کے نام پر وہ تمھارے لئے حلال ہوئیں ہیں ۔

لوگو! میری بات سمجھ لو ، میں نے حق تبلیغ ادا کردیا ہے ۔ میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑ ے جارہا ہوں کہ اگرتم اس پر قائم رہے کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ اللہ کی کتاب ہے اور ہاں دیکھو دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے والے لوگ غلو کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے تھے ۔

لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو ، پانچ وقت کی نماز ادا کرو ، اپنے مالوں کی زکاة خوش دلی سے نکالو ، ماہ رمضان کے روزے رکھو ، اللہ کے گھر کا حج کرو اولل امر کی اطاعت کرو ۔ مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہے . نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑاجائے گا اور نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا ۔
لو گو سنو ! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور باتیں ان لوگوں کو بتادیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر موجود آدمی تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔
لو گو! تم سے میرے بارے میں اللہ کے یہاں سوال ہوگا تم کیا جواب دوگے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانت دین پہنچادی اور آپ نے حق رسالت ادا فرمادیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی، یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنی انگشت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا۔ اللہ گواہ رہنا ! اللہ گواہ رہنا ! اللہ گواہ رہنا ۔

Nabil Hajj & Umrah
Address. Suite 215 Linen Hall
162-168 Regent Street
London W1B 5TG
Tel 020 7734 9590
Email info@nabiltours.com

facebook
Twitter
Youtube