Hajj Guide Urdu

ہماری دلی تمنا اورسچی خواہش ہے کہ آ پ کا حج یا عمرہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ﷺ کی سنت کے مطابق ہو تاکہ اللہ تعالٰی اس کو قبول فرمائے ۔ اور دعا ہے کہ آپ کے اس نیک عمل کے ذریعہ آپ کے تمام گناہ معاف ہو جائیں اور آپ کی تمام دلی مرادیں اور نیک خواہشات بر آئیں اور آپ کا یہ نیک اور مبارک سفر خیرو عافیت کے ساتھ بہت اچھا اور آسان سے آسان تر طے ہو جائے اس اہم مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے یہاں چند گزارشات پیش کی جاتی ہیں۔

  1. ہمارے حج کا مقصد ارادہ اور نیت صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہو۔
  2. ہمارا حج صرف اللہ کے حکم اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق ہو۔
  3. ہمارے اس مقدس سفر پر صرف حلال کمائی خرچ ہو۔
  4. ہمیں دوران سفر جہاں تک ممکن ہو نمازیں با جماعت ادا کرنی چاہئیں۔
  5. ہمیں اس اہم عبادت حج کے دوران ہر حال میں بد زبانی تکبر اور غصہ پر کنٹرول رکھنا ہوگا۔
  6. دوران سفرکا رروائی میں جو بھی وقت لگے یا دشواریاں در پیش ہوں، اس میں صبر وتحمل اور حسن اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں اور اس وقت آپ اپنی امتِ مسلمہ، اور اسلامی بھائی چارگی کی
  7. بہترین مثال ثابت ہوں۔ 

اس مقدس سفر میں ہمیں شیطان اور اس کے دھوکوں سے اپنے کو محفوظ رکھنا۔
برادران اسلام! شیطان کا یہ چیلنج ہے کہ وہ کسی بھی طرح ہمیں اللہ کی راہ سے اور تمام اچھے کاموں سے روکے گا، اور ہر قسم کے مکر وفریب اور دھوکے سے برائی کی طرف دھکیلے گا۔

 

قَالَ فَبِمَآ آغْوَیْتَنِیْ لَآقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ عَنْ اَیْمانِھِمْ وَ عْنْ شَمَآءِلِھِمْ، وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمُ شٰکِرِیْن
(سورۃ الاعراف: ۱۶)

ترجمہ: اس (شیطان) نے کہا اس لئے کہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے (گمراہ کرنے ) لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان کے دائیں جانب سے بھی اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور ان میں سے تو اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔

جب مسلمان کسی سواری پر سوار ہو تو یہ دعا پڑھے

سُبْحَانَ الْذِي سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَ وَ إِنَّا إلي رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۰ اَللّٰھُمَّ إنِّي أَسْئَلُکَ فِيْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرُّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنْ الْعَمْلِ مَا تَرضَي، اَللّٰھُمَّ ھَوْنَ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا واطوعَنَا بُعْدَہ، اَللّٰھُمَ أنتَ الصَّاحبُ فی السفروَ الْخلِیْفَۃُ فِیْ الأھْلِ، ھٰذا اللّٰھُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِکَ مَنْ وَ عَثَاءِ السَّفرِ وکأبۃ الْمَنْظَرِ وَ سُوْءِ الْمُنَقَلَبِ فِيْ الْمَالِ وَالْأھْلِ : المسلم

ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس سواری کو تابع کر دیا اور ہم اس کو تابع نہیں کر سکتے تھے ، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اے اللہ میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جس کو تو پسند کرتا ہے اے اللہ ہمارے اس سفر کو آسان کردے اور ہم سے اس کی طوالت کم کر دے اے اللہ تو ہے سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر کا نگہبان ہے اے اللہ سفر کی تکلیف اور بُری چیزوں کے دیکھنے اور مال اور اہل میں بُری حالت میں لوٹنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔

سفر میں نماز قصر پڑنی چاہیئے
اللہ تعالی نے قرآن میں فرمایا
واذا ضَربتُم فی الأرضِ فَلیس عَلیکم جُناح إن تَقصُروا مِن الصَلوةِ
النِساء آیة ۱۰۱:

ترجمہ: اور جب تم سفر میں نکلو تو کچھ حرج نہیں ، اگر نماز یں قصر کرو ۔
حضرت انسؓ فرماتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مدینہ سے مکہ کےلئے نکلے ، آپ ﷺ دو ، دو رکعت نماز پڑھتے رہے ، یہاں تک کہ ہم مدینہ لوٹ آئے ۔ :  بخاری ومسلم

عمرہ کے لیے بّری راستوں سے جو لوگ مکہ آئیں گے نبی ﷺ نے مندر جہ ذیل میقات مقر ر فرمائے تھے۔
ذوالحلیفہ : اس کو وادیٔ عتیق یا بئرعلی بھی کہتے ہیں مدینہ اور اس کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ، جو مدینہ سے ۵ میل دور مکہ کی طرف ہے اس وقت یہاں بہت بڑی اور خوب صورت مسجد ہے ۔
  جحفہ : یہ مکہ سے۱۸۷ کیلومیٹر دور شام اور مصر کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
  قرن المنازل : یہ مکہ سے ۹۴ کیلو میٹر دور نجد کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
  یلملم : یہ اہل یمن اور جنوب کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
  ذات عرق : مکہ سے شمال مشرق میں ۹۴ کیلو میٹر دور ی پر واقع ہے یہ ایران ، عراق اور اس طرف سے مکہ آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔ جہاز سے آنے والوں کا میقات
جو لوگ ہوائی جہاز سے جدہ آتے ہیں ان کےلئے سنت طریقہ یہ ہے کہ سفر کرنے سے پہلے وہ غسل وغیرہ کرلیں ، جب میقات کے قریب آئیں تو احرام باندھ لیں ، جہاز میں سوار ہونے سے پہلے بھی احرام باندھا جاسکتا ہے لیکن احرام کی نیت نہ کریں اور نہ ہی تلبیہ کہنا شروع کریں۔ جب میقات پر پہونچیں تو احرام کی نیت کریں اور تلبیہ کہنا شروع کردیں ۔

قرآن اور حدیث سے حج کی فرضیت

و للہ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إلَیْہِ سَبِیْلاً : اٰل عمران: ۹۷
لوگوں پر حج کرنا واجب ہے اللہ کے لئے جو حج کرنے کی استطاعت رکھتے ہوں ۔

وَإذن فِی الناس بِالحج یَاتُوک رِجالاً وَعلی کُل ضَامر یَاتِین مِن کُل فَج عَمِیق : سورہ الحج:۲۷
ترجمہ: اور لوگوں میں تم حج کا اعلان کردو لوگ تمہاری طرف دور دراز راستوں سے نحیف اونٹنیوں پر سوار ہو کر چلے آئیں گے۔
وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلہِ (سورة البقرہ الآیة: ) ۱۹۶
ترجمہ : اور حج اور عمرہ اللہ کےلئے پورا کرو ۔

یَایھا النَّاس قَد فَرض عَلیکُم الحَج فَحَجُّوا : صحیح مسل 
ترجمہ : لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو۔

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر اس عاقل و با لغ مسلمان (مرد و عورت ) پر زندگی میں ایک بارفرض ہے جو اس سفر کےلئے مالی اور جسمانی طاقت رکھتا ہو اور یہ قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے ۔ اللہ کا ارشاد ہے
بُنی الإسلاَمُ عَلی خَمس ، شَھادةُ أن لَا إلہ إلا اللہ ، وَأن مُحَمّد اً رسولُ اللہ ، وَ إقام الصلاة و إیتاءالزَّکاة ، وَحَج البَیت و صوم رمضان : رواہ بخاری و مسلم
ترجمہ : اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاة ادا کرنا ، حج کرنا ، اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا ۔

حج کی فضیلت
مَن حَج وَلَم یَرفُث وَلَم یَفسُق رَجَع کَیومِ وَلَدَتہُ أمہ ۔
(اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کیا ہے )
ترجمہ :جس نے اللہ کےلئے حج کیا اور اس کے دوران جماع ، شہوت اور فسق و فجور نہیں کیا وہ حج کے بعد اس طرح گناہوں سے پاک ہو کر واپس ہو تا ہے جیسے اسی دن شکم مادر سے پیدا ہوا ہے ۔
العُمرَةُ إلی العُمرةِ کَفَّارة لِمَا بَینَھُمَا ، وَالحَج المَبرُور لَیس لُہ جَزا إلا الجَنَّہ : البخاری ومسلم
ترجمہ: ایک عمرة دوسرے عمرة کے درمیان والے وقت کےلئے کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاءجنت ہی ہے۔
بوڑھے ، کمزور مرد اور عورت کا حج و عمرہ جہاد کے برابر ہے. : نسائی

حج کے ارکان

  1. حج کی نیت کرنا ، اور کہنا : اللَّھم لَبَّیک حَجا
  2. میدان عرفات میں ٹھہرنا ۔
  3. طواف زیارۃ کرنا ۔
  4. صفا اور مروہ کی سعی کرنا ۔ : بخاری و مسلم

نوٹ : حج کے ارکان میں سے اگر کوئی رکن چھوٹ جائے تو حج باطل ہوجاتا ہے۔

حج کے واجبات

  1.  میقات سے احرام باندھنا ۔
  2.  غروب آفتاب تک عرفات میں ٹھہرنا ۔
  3.  قربانی کی رات مزدلفہ میں گزارنا ۔
  4. ۱۰؍ ذوالحجہ کو صرف بڑے جمرہ کو اور ۱۱؍،۱۲؍ ذوالحجہ کو تینوں جمرات کو ترتیب کے ساتھ اللہ اکبر کہہ کر سات سات کنکریاں مارنا۔
  5. ۱۱؍، ۱۲؍ ذوالحجہ کی رات منٰی میں گزارنا ۔
  6. سر کے بال چھوٹے کروانے یا منڈوانے ۔
  7. طواف وداع کرنا ۔ : مسلم

نوٹ : ا گر کوئی واجب چھوٹ جائے تو اس پر دم دینا واجب ہوگا جو حدود مکہ میں ذبح کیا جائے اور فقراء مکہ میں تقسیم کیا جائے۔ : مؤطا

حج کے اقسام

  • 1 : حج قرن 
    • میقات سے احرام باندھنا (قربانی کا کوپن یا اس کی پیسوں کا انتظام کرنے کے بعد ) اللَّھم لَبیک عُمرہ وحَجا کہہ کر نیت کرنا۔ اور۸؍ذی الحجہ کو حج کے لئے اسی احرام سے جانا اور ۱۰؍
    • ذی الحجہ کو کنکریاں مار کر احرام کھولنا اور حج مکمل کرنا۔ 
  • 2 : حج تمتع
    • میقات سے احرام باندھنااور اللَّھم لَبیک عُمرة کہہ کر نیت کرنا ۔
    • عمرہ کرنے کے بعد احرام کھولنا ، اور ۸ ؍ ذی الحجہ تک حج کا انتظار کرنا ۔حج کا احرام باندھ کر منٰی جانا اور حج مکمل کرنا ۔
  • 3 : ۔حج افراد
    • میقات سے احرام باندھنااور اللَّھم لَبَّیک حَجا کہہ کر نیت کرنا مکہ والے حضرات حج کے لئے اپنی رہائش گاہ سے ہی احرام باندھیں خواہ ان کی رہا ئش مستقل ہو یا عارضی ۔طواف اور صفا اور مروہ کی سعی کرنا( اگر حج مفرد کرنے والے نے طواف قدوم کے وقت سعی نہ کی ہو ، یا پھر وہ اپنے گھر سے سیدھا منیٰ کی طرف چلا گیا ہو تو اسے طواف زیارت کے بعد سعی کرنی ہو گی) اور وہ قربانی کے دن تک اپنے احرام میں ہی رہے گا ۔ : بخاری ومسلم

حج کے پانچ دن

  • 1 : ذوالحجہ کی ۸؍ تاریخ : یوم ترویہ
    • آج حج کےلئے منٰی کی طرف جانا ہے، یاد رہے حج قرن کرنے والے حضرات پہلے سے ہی حالت احرام میں ہوں گے اور حج تمتع کرنے والے آٹھ تاریخ کو اپنی رہائش گاہ سے ہی احرام باندھیں گے اور یہ الفاظ کہیں گے ۔ ( اللَّھم لبَّیک حَجا ) اور تلبیہ کہنا شروع کریں گے ۔
    • لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
    • حاجی منٰی میں ظہر ، عصر مغرب ، عشاء اور فجر کی نماز اپنے اپنے وقت پر قصر ادا کریں گے ۔ : بخاری ومسلم
  • 2 : ذی الحجہ کی ۹؍ تاریخ : یوم عرفہ
    • آج مستحب ہے کہ سورج طلوع ہونے کے بعد تلبیہ اور تکبیر یں کہتے ہوئے عرفات جائیں ( وہاں ظہر کے وقت ایک اذان کے ساتھ ) ظہر اور عصر کی نماز ، قصر یعنی صر ف دو دو رکعت ادا کریں اور ہر نماز کے لئے الگ الگ تکبیر کہیں ، اور پھر مغرب تک حاجی اللہ کے ذکر ، تلاوت قرآن شریف ، اللہ سے دعاکرنے میں مشغول رہیں ( ۹؍ ذی الحجہ کو حاجی کے لئے روزہ رکھنا غیر مشروع ہے ، ( وادی عرانہ ، میدان عرفات کی حدود میں داخل نہیں ہے ،لہذا وہاں ظہر اور عصر کی نماز کے بعد ٹھہرنا صحیح نہیں ہے ، اسی طرح جبل رحمت پر چڑھنا بھی مستحب نہیں ہے
    • غروب آفتاب کے بعد عرفات سے مزدلفہ جانا ہو گا ، اور وہاں ، ایک اذان اور دو الگ الگ تکبیروں کے ساتھ مغرب اور عشاءکی نماز یں جمع اور قصر ( مغرب کی صرف تین رکعت اور عشاءدو رکعت ) ادا کریں ، : بحاری ومسلم
    • یاد رہے کہ مزدلفہ میں مشعر الحرام کے پاس ٹھہر نا اور دعا کرنا مستحب ہے ،اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ 
    • فَإِذا اَفَضْتُمْ مِّنْ عَرَفٰتٍ فَاذْکُرُوا للّٰہَ عِنَدَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ : البقر: ۱۹۸
    • حاجی یہ رات آرام کرتے ہوے گزاریں وہاں فجر کی نماز ادا کریں اور سورج طلوع ہونے سے قبل منی کے لئے روانہ ہو جائیں، کمزور عورتیں، عمر رسیدہ اور معذور حضرات ضرورت پڑنے پر چاند غروب ہو جانے کے بعد بھی مزدلفہ سے منیٰ جاسکتے ہیں ۔ : بخاری، مسلم ،زادالمعاد
    • جمرات کو مارنے کے لئے کنکری مزدلفہ سے ہی لے لیں (جو کل ۴۹ یا ۵۶ ہیں ) کنکریاں منیٰ کے میدان سے بھی لی جا سکتی ہیں کنکریاں چنے کے دانے سے کچھ بڑی ہونی چاہئیں، کنکریوں کو دھونا بدعت ہے ۔
  • 3 : ذی الحجہ کی دس تاریخ : یوم نحر
    • آج سورج طلوع ہونے کے بعد منی پہونچنا ہے اور یہ چار کام کریں ۔
      1. اللہ اکبر کہہ کر بڑے جمرہ کو سات کنکریاں ماریں اور تلبیہ کہنا بند کردیں ۔ لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
      2. قربانی کرنا ، حج قرن اور حج تمتع کرنے والے قربانی کریں ، مکہ کے رہنے والوں پر قربانی نہیں ہے ۔ اور قربا نی کر تے وقت یہ دعا پڑھیں ۔ بسم اللہ اللہ اکبر۔
      3. سر کے بال کٹوانا یا سرمنڈوانا، اور منڈوانا بہتر ہے (بخاری،مسلم ،ابن خزیمہ) اس کے بعد احرام کھول دیں ۔
      4. طوا ف زیارت کرنا مجبوری کے تحت اس کو طواف وداع تک مؤخر کرسکتے ہیں اگر طواف وداع کے ساتھ طواف زیارۃ کی بھی نیت کرلیں تو دونوں ادا ہو جائیں گے ۔
      5. جن حاجی صاحبان نے طواف قدوم کے ساتھ سعی نہیں کی تھی وہ طواف زیارۃ کے ساتھ سعی بھی کریں گے ۔
      • نوٹ: دس تاریخ کو جمرہ کبری کو کنکریاں مارنے کے بعد سے حاجی پر احرام کی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں صرف حاجی اپنی بیوی سے ہم بستری نہیں کرسکتا البتہ طواف زیارت اور سعی کرنے کے بعد بیوی سے ہم بستری بھی کرسکتا ہے ۔ خیال رہے کہ ۱۰؍ تاریخ کے مذکورہ کاموں کی ترتیب مستحب ہے لیکن حج کی صحت کے لئے شرط نہیں ہے ، اور نہ ہی ترتیب چھوڑ نے سے دم واجب ہوتا ہے ۔ : بخاری، مسلم ،ابوداؤد، ابن خزیمہ
  • 4 : ذی الحجہ کی گیارہ تا ریخ : ایام تشریق کا پہلا دن
    • گیارہ ذی الحجہ کی رات منی میں گزارنا واجب ہے لیکن چرواہوں کے لئے حجاج کو پانی پلانے والوں کے لئے رخصت ہے ، زوال کے بعد تینوں جمرات کو ترتیب کے ساتھ اللہ اکبر کہہ کر سات سات کنکریاں ماریں ۔ اور چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعد یہ دعا کرنا مستحب ہے
    • اللَّہم إِجعَلہ حَجاً مَبرُوراً وَذَنبا مَغفُوراً : مسلم ،ابو داؤد،مسند احمد ،ابن خزیمہ
    • کنکریوں کے مارتے وقت گنتی میں شک ہو جائے تو جس گنتی پر اسے یقین ہو اس پر اعتماد کرتے ہوئے باقی گنتی مکمل کرلیں ۔ ۱۲؍ ذی لحجہ کی رات بھی منٰی میں گزارنا واجب ہے لیکن چرواہوں کے لئے حجاج کو پانی پلانے والوں کے لئے رخصت ہے۔
  • 5 : ذی الحجہ کی ۲۱؍تاریخ (ایام تشریق کا دوسرا دن
    • آج بھی تینوں جمرات کو ترتیب کے ساتھ اللہ اکبر کہہ کر سات سات کنکریاں ماریں ۔ اور چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں مارنے کے بعدیہ دعا کرنا مستحب ہے: 
    • اللَّہم إجعَلہ حَجاً مَبرُوراً وَذَنبا مَغفُوراً ۔
    • اورآج غروب آفتاب سے پہلے منٰی کی حدود سے باہر نکل جانا چاہئے ۔ اگر منٰی میں غروب آفتاب ہو جائے تو ۱۳؍ذی الحجہ کو بھی زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں مارکر منٰی سے نکلنا چاہئے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
    • وَاذْکُرُوا اللّٰہَ فِيْ اَیَّامٍ مَّعْدُوْدٰتٍ، فَمَنْ تَعَجَّلَ فِيْ یَوْمَیْنِ فَلَآ اِثْمَ عَلَیْہِ، وَ مَنْ تَأخَّرَ فَلَا اِثْمَ عَلَیْہِ لِمَنِ اتَّقٰی : البقرۃ: ۲۰۳
عمرہ کی فضیلت
العُمْرَۃُ إلي الْعُمْرۃِ کَفَّارَہٌ لِمَا بَيْنَھُمَا، وَالْحَجِّ الْمَبْرُوْر لَيَسَ لہ جَزَا إلْا الْجَنَّۃ
البخاری و المسلم :
ترجمہ: ایک عمرة دوسرے عمرة کے درمیان والے وقت کےلئے کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاءجنت ہی ہے۔
عمرہ کے وجوب کی دلیل کے لئے قرآن کا فرمان ہے وَاَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَۃَ لِلہِ : سورة البقرہ الآیة
ترجمہ : اور حج اور عمرہ اللہ کےلئے پورا کرو ۔
بوڑھے ، کمزور مرد اور عورت کا حج و عمرہ جہاد کے برابر ہے : نسائی

عمرہ کے ارکان
۱- احرام باندھ کر نیت کرنا اور ( الَّلہم لَّبیک عمرہ ) کہنا ۔
۲ - بیت اللہ کا طواف کرنا ۔ ۳- صفا اور مروہ کی سعی کرنا ۔ : بخاری و مسلم

عمرہ کے واجبات
۱- میقات سے احرام باندھنا ۔ ۲- سرکے بال چھوٹے کروانا یا منڈوانا ۔ : بخاری و مسلم 

عمرہ کرنے کا طریقہ
جب عمرہ کا احرام باندھنا چاہیں تو مسنون طریقہ یہ ہے میقات پر یا میقات سے پہلے ناخن تراشیں، زیر ناف اور بغلوں کے بال صاف کریں .غسل کریں اچھی خوشبو داڑھی اور جسم پر لگائیں اور دو سفید چادریں لے لیں ایک چادر تہبند کی طرح باندھ لیں اور ایک چادر کو اوڑھ لیں خواتین اپنا عام لباس ہی پہنیں ، ہاں نقاب ، برقع اور دستانے نہ پہنیں اور میقات پر اگر فرض نماز کا وقت ہو تو نماز پڑھیں اور پھر لبیک عمرة کہہ کر نیت کرلیں اور تلبیہ کہنا شروع کردیں :
  لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، بے شک ساری تعریف تیرے لئے ہیں ۔ساری نعمت تیری ہیں، بادشاہت تیری ہے تیرا کوئی ساجھی نہیں ۔

نوٹ : اگر عمرہ کرنے والے کو مکہ مکرمہ تک پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا خدشہ ہو تو اسے نیت کرتے وقت یہ کہنا چاہئے ۔

اَللّٰھُمَّ مَحَلّي حَیْثُ حَبَسْتَنِي  : بخاری

پھر اگر وہ مکہ نہ پہنچ سکا تو بغیر دم دیئے حلا ل ہو جائے گا ، یعنی احرام کھول سکتا ہے ۔ اور اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی ۔
حرم شریف داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پیر رکھیں اور یہ دعا پڑھیں ۔
اللہم افتح لی ابواب رحمتک : مسلم 
اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولدے ۔

طواف کا طریقہ
حجرِ اسود سے طواف شروع کرنا چاہئے حجر اسود کو بسم اللہ. اللہ اکبر کہہ کر بوسہ دینا چاہئے ، اگر بوسہ دینا مشکل ہو تو ہاتھ سے یا چھڑی سے چھونا چاہئے اگر یہ بھی مشکل ہو تو صرف بسم اللہ . اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ سے اشارہ کرنا چاہئے اور یہ دعا پڑھنی چاہئے ۔

بِسْمِ اللہ واللہ آکْبَرْ اللّٰھُمَّ إیْمَاناً بِکَ وَ تَصْدِیْقاً بِکِتَابِکَ وَفَاءِ بِعَھْدِک وَ إِتِّبَاعاً لِسُنَّۃِ نَبِیْکَ مُحَمَّذ صَلَّی اللّہُ وَ عَلَیْہِ وَ سَلَّم
ترجمہ : شروع کرتا ہو اللہ کے نام سے اللہ بہت بڑا ہے اے اللہ تجھ پر ایمان لاتے ہوئے، تیرے وعدے کو پورا کرتے ہوئے۔

سُبْحَانَ اللہ والْحَمْدُ للہ وَ لَا إلٰہَ إلَّا اللہ واللہ اکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃ إلَّا بِاللہِ۔ : ابن ماجہ
اور تیرے نبی کی سنت کو پورا کرتے ہوئے پھر بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف کر کے طواف شروع کردیجئے ، رکن یمانی کو صرف چھوئیں اور بوسہ نہ دیجئے ، دیگر طواف کرنے والوں کو تکلیف نہ دیجئے ، بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ہر چکر میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔

رَبَّنا آَتِنا فِی الدُنیا حَسَنة وَّ فِي الْاٰخِرَۃِ ِ حَسَنَۃًّ وقِنَا عَذَابَ النَّار : سورہ بقرہ

اس کے علاوہ طواف کے ہر چکر کی کوئی دعا مخصوص نہیں ہے ، جو چاہیں اللہ سے دعاء کرسکتے ہیں ۔جب کبھی حجر اسود کے پاس سے گزريں تکبیر کہیں ۔ یاد رہے طواف کرتے ہوئے اضطباع کریں یعنی طواف کرتے وقت دائیں کندھے کو کھلا رکھیں ۔ اور رمل کریں یعنی قدم نزدیک نزدیک رکھتے ہوئے تیزی سے چلیں ، یہ پہلے تین چکروں میں کریں گے باقی چار چکروں میں رمل نہیں ہے ۔
دو رکعت نماز طواف کے بعد
طواف کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھیں اللہ تعالی نے فرما یا ۔

والتَّخَذُوْا مِنْ مُّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی : البقرة
اگر مقام ابراہیم کے نزدیک جگہ نہیں مل سکے توحرم شریف میں جہاں بھی جگہ مل جائے وہیں نماز پڑھ لی جائے اس کے بعد پیٹ بھر کر زمزم پیئں کچھ سر پر ڈالیں اور یہ دعا پڑھیں ۔
اللّھُمَّ إنّی أَسْأ َلُکَ عِلماً نَافِعاً وَ رِزْقاً وَاسِعاً و شِفَاعاً مِنْ کُل دَاءٍ۔ : بخاري
صفا اور مروہ کے درمیاں سعی
طواف مکمل کرکے صفا کی طرف جائیں، صفاپر یہ دعا پڑھنا مستحب ہے

إنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِاللّٰہ فَمَن حَجَّ البیتَ اَوِاعتَمَر فَلا جُنَاحَ عَلیہ أن یَطوفَ بِھِما وَمن تَطَوَّعَ خَیراً فإن اللہ شَاکِر عَلِیم : البقر
پھر قبلہ رخ ہو کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں ، اور تین بار یہ دعا پڑھیں۔

لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اللہ اَکبَرُ لَا اِلٰہَ الَّا اللہ وَحدَہ لَا شَرِیکَ لَہ۔ لَہ المُلکُ وَلَہ الحَمدُ یُحیِي وَیَمُوتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہ انجَزُ وَعْدَہ وَ نَصَرَعَبْدُہ وَھَزَمُ الاَحْزَابِ وَحْدَہ : متفق علیہ
اور ان مذکورہ دعاؤں کے درمیان میں قبلہ رخ بیٹھ کر ہاتھ اٹھائیں اور جو دل چاہے دعا کریں ، اور یہی دعا تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر مروہ پر بھی پڑھیں ۔ (مسلم ، ابوداؤد ، نسائی ) یاد رہے کہ مردوں کے لئے دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑنا مستحب ہے ۔ ( نسائی، ابن ماجہ) اور یاد رہے صفا سے مروہ کی طرف جانا ا یک چکر ہے اور وہاں سے واپس آنا دوسرا چکرشمار ہوگا ۔
صفا اور مروہ کی سعی کے سات چکر مکمل ہو جا نے کے بعد اگر مرد ہو تو سر کے بال منڈ وائیں یا چھوٹے کروائیں ، خواتین اپنی چوٹی کے ایک پوروہ کے برابر بال کاٹیں ۔ اس کے بعد آپ احرام کھولدیں۔
اب آپ کا عمرہ مکمل ہو چکا ہے

حالت احرام میں ممنوع کام اور ان کا کفارہ
۱- جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا، کاٹنایا مونڈنا۔
۲- ناخن تراشنا۔
۳- خوشبولگانا۔
۴- مرد کا اپنے سرکو ڈھانپنا۔
۵- مرد کے سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور عورت کو دستانے اور نقاب پہننا۔ (بخاری

نوٹ : اگر ان مذکورہ پانچ ممنوع کاموں میں سے کوئی کام غلطی سے یا بھول کر ہو جائے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے مگر جو جان بوجھ کر ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے گا تو اس پر یہ کفارہ ہے:
تین دن کے روزے رکھنا یا چھ مسکینو ں کو ایک وقت کا کھانا کھلانا، یا دم دینا ۔
فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ ففدیة من صیام او صدقة او نسک : ال عمران
۶-جنگلی یا میدانی جانوروں کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں مدد کرنا، اس کا کفارہ اسی جانورکی مثل صدقہ دینا ہے۔

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتَلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ، وَ مَنْ قَتَلَہ مِنْکُمْ مُّتَعَمِداً فَجَزَأئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیَا، بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْعَدْلُ ذٰلِکَ صِیَاماً : المائدہ:۹۶

 حالت احرام میں منگنی کرنا یا کروانا ، نکاح کرنا یا کروانا اس کا کفارہ صرف توبہ اور استغفار کرناہے ۔

لا ینکح المحرم ولا یخطب : مسلم

۸- بیوی سے بوس وکنار کرنا اگر انزال نہ ہو تو اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہے، اور اگر انزال ہوجائے تو اس کا کفارہ ایک گائے یا اونٹ ذبح کرکے گوشت مکہ کے فقیروں میں تقسیم کرنا ہے۔

بیوی سے ہم بستری کرنا۔۱-اگر یہ ہم بستری ۱۰؍ تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مارنے سے پہلے تھی تو اس کا حج باطل ہو جائے گا۔۲-حج کے بقیہ کام پورے کرے گا۔ ۳-اگلے سال دوبارہ حج کرے گا۔ ۴- ایک اونٹ یا گائے حرم کی حدود میں ذبح کرکے فقرائے مکہ میں تقسیم کرے گا۔ اور اگر ہم بستری ۱۰؍ تاریخ کو جمرہ کبریٰ کو کنکریاں مار نے کے بعد کی ہے تو اس کا حج تو صحیح ہوگا لیکن اس کو دم دینا ہوگا۔ : حاکم، بیہقی، موطا

اَلْحَجُّ اَشُھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ، فَمَنَ فَرَض فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ، وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ، وَ مَا تفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعَلَمُہُ اللہ، وَ تَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولٰي الْاَلْبَابِ : سورۃ البقرۃ : ۱۹۷

نوٹ: اگر کسی خاتون کو حالت احرام میں حیض یا نفاس وغیرہ کا خون آجائے تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج اور عمرہ کے باقی تمام ارکان اور واجبات ادا کریں گی۔ (بخاری، مسلم) دوران سفر خواتین حیض کو روکنے کے لئے دوا کا استعمال کرسکتی ہیں اور حالت احرام میں دانتوں کی صفائی کے لئے ٹوتھ برش اور جسم کی صفائی کے لئے صابن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اللہ کا مقدس گھر جس کا اللہ نے قرآن مجید میں ذکر یوں فرمایا ہے إنَّ اول بَیت وُضِعَ لِلنَّاسِ لِلذی بِبَکَةَ مُبَارَکاً وَھُدیً لِلعَالمِین ۔ : سورۃ الٰ عمران ترجمہ :  بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کےلئےتعمیر ہوئی وہ کعبہ ہے جو مکہ میں واقع ہے، اس کو خیرو برکت دی گئی اور اسے تمام جہان والوں کےلئے مرکز ہدایت بنایا گیا ، اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں حضرت ابراہیم کا مقام عبادت ہے اوراس کایہ حال ہےکہ جواس میں داخل ہوا مامون ہوگیا ۔
وَإِذْ یَرْفَعُ إِبْراھِیْمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مّنَّا إِنَّکَ أَنْتَ الَّسمِیْعُ الْعَلِیْمُ : البقرۃ ۱۲۷
ہمارے جدا مجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نیک بیوی اور بہت فرماں بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آمد کی برکت سے آباد ہوا انہوں نے یہاں اسلامی شان و شوکت والا، اللہ کا پہلا گھر (خانۂ کعبہ) تعمیر کیا جس کی طرف کو منہ کرکے ساری دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، اس گھر کی بے شمار برکتیں ہیں اس کے بارے میں سورہ الحج ۲۶ میں ارشاد ہوتاہے
وإِذ بَوَّانا لإِبرَاہِیمَ مَکاَنَ البَیتِ إن لّا تُشرِک بِی شَیئاً وَطَھرّ بَیتی لِلطَّائفین َ وَالقَائِمِینَ وَالرُکَّعِ السُجود ۔
ترجمہ : یاد کرو وہ وقت جب ہم نے ابراہیم کےلئے اس گھر کی جگہ تجویز کی تھی اور ہدایت کی تھی کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کےلئے پاک رکھنا اللہ کا ارشاد ہے
وَاَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالٓحَجِّ یَأْتُوْکَ رِجَالاً وَّ عَلٰي کُلِّ ضَامِرٍ یّٓأْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ : سورۃ الحج ۲۷
ترجمہ: اور لوگوں کو حج کےلئے حج کا اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس دور دراز مقام سے پیدل اور اونٹوں پر سوار ہو کر آئیں۔
خانہ کعبہ کی عمارت چوکور ہے اور اس کی دیواریں تقریبا ۴۔۱۱ میٹر بلند ہیں اس کے مشرقی رکن میں ایک میٹر بلند پر حجر اسود نصب ہے۔
خانۂ کعبہ کی مشرق میں تقریبا دو میٹر کی بلندی پر کعبہ کا دروازہ ہے خانۂ کعبہ کی شمالی جانب زمین کا وہ حصہ ہے جو چھوٹی دیوار سے باﺅنڈ ری کیا ہوا ہے۔ جس کے اندر سے گزر کر طواف نہیں کیا جاسکتا ہے اور اس کے اندر نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مساوی ہے اس کو حطیم کہتے ہیں۔
۵۷۱ء میں یمن کا ظالم بادشاہ کعبہ کو گرانے کے ارادے سے مکہ پر حملہ آور ہوا وہ اپنے بھاری لشکر کے ساتھ مزدلفہ اور منی کے درمیاں وادیٔ محسر میں قیام پذیر تھا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی اور اس کی تمام فوج کو نیست و نا بود کردیا اس کا ذکر قرآن مجید کی سورہ الفیل میں ملتا ہے ۔اسی سال ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ ہوئی تھی ۔
کعبہ: کعبہ، یا خانہ کعبہ ، قبلہ ، یا بیت اللہ ، اللہ کا گھر جس کا حج اور طواف کرتے ہیں ، ساری دنیا کے مسلمان جس کی طرف کو منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں،اور جس مسجد میں یہ گھر واقع ہے اس کو مسجد حرام یا حرم شریف کہتے ہیں۔
رکن یمانی : کعبہ کا جنوب مغربی کونہ جو یمن کی طرف واقع ہے ۔
حجر اسود : کالا پتھر جو جنت سے آیا ہو ہے ، اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا ،لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کر دیا ، یہ بیت اللہ کے جنو ب مشرقی کونے میں چاندی کے حلقہ میں پیوست کر کے لگایا ہوا ہے ۔
ملتزم : حجرے اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے ما بین دیوار جس پر لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے ۔
حطیم : خانہ کعبہ کی شمالی جانب زمین کا وہ حصہ ہے جو چھوٹی دیوار سے باونڈری کی ہو ئی ہے جس کے اندر سے گزر کرطواف نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے اندر نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مساوی ہے ۔
میزاب رحمت : حطیم کے اندر کعبہ کے اوپر سے گرنے والا پر نالہ جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔
مقام ابراہیم : یہ جنت سے آیا ہوا وہ پتھر جس کے اوپر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں فرمایا ہے
واتخذو من مقامِ ابراھیم مصلیٰ : البقر
مطاف : کعبہ کے چاروں طرف کی جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے ۔
بئر زمزم : حرم شریف کے اندر پانی کا کنواں جس کا پانی پینا ثواب اور بہت سی بیماریوں کے لئے باعث شفا ہے۔
صفا : حرم شریف کے اندر کعبہ کے جنوب میں ایک پہاڑی ہے جہاں سے سعی شروع ہوتی ہے ۔
مروہ : حرم شریف کے اندر کعبہ کے جنوب میں ایک پہاڑی ہے جہاں سعی ختم ہو تی ہے ۔
منی: حرم شریف سے تین میل کے فاصلے پر وادی ہے جہاں حاجی عرفات سے قبل اور مزدلفہ کے بعد قیام کرتے ۔
جمرات : منیٰ میں وہ تیں ستون جن کو حاجی کنکریاں مارتے ہیں ۔
عرفات: منیٰ سے تقریبا ۸ میل دور بہت بڑا میدان ہے جہاں ۹؍ذی ا لحجہ کو حجاج حاضر ہو تے ہیں۔ اور یہاں کی حاضری حج کا بہت اہم رکن ہے۔
مزدلفہ : منیٰ سے عرفات کی طرف تین میل کے فاصلے پر وادی ہے جہاں حجاج عرفات سے واپسی پر رات کو قیام کرتے ہیں۔
وادی محسر : مزدلفہ سے منیٰ کی طرف میدان جہاں اللہ تعالی نے یمن کے ظالم باد شاہ ابرہہ اور اس کے لشکر کو برباد کیا تھا (جو کعبہ کو گرانا چاہتا تھا) یہاں سے حجاج کو تیزی سے گزر جانا چاہئے ۔
مسجد خیف: یہ منٰی میں جمرات سےقریب بہت بڑی اورخوبصورت مسجد ہے جہاں انبیائےکرام نےنما ز ادا کیں ہیں۔
مسجد نمرہ: یہ بہت بڑی اور خوبصورت مسجد آدھی میدان عرفات میں ہے اور آدھی عرفات کی حد سے باہر ہے۔
مسجد مشعر الحرام: یہ خوبصورت مسجد مزدلفہ میں ہے اس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے۔ افضتم من عرفات فاذکروا اللہ عند المشعرالحرام : البقرة مسجد عائشہ: یہ بہت بڑی اور خوبصورت مسجد مکہ میں مدینہ روڈ پر واقع ہے اس مسجد کو مسجد تنعیم اور مسجد میقات بھی کہتے ہیں۔
بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کا ثواب ایک لاکھ گنا زیادہ ہے بیت اللہ کا طواف کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور وہاں بیٹھ کر اللہ کے گھر کو دیکھنا بھی عبادت ہے اگر آپ کو وقت ملے تو آپ بیت مولد النبی ﷺ،جنت المعلی، مسجد جن، غار حراء، جبل ثور، مسجد عائشہ،مسجد خیف، مسجد المشعرالحرام ، مسجد نمرہ ، عرفات کا میدان ، مزدلفہ ،منٰی ، کی زیارت کریں مگر اپنے قیمتی وقت کی قدر کریں اور ان کو عبادت میں لگائیں۔
ہمارے نبی ﷺ نے آخری حج کے موقع پر عرفات جبل رحمت کے پاس ایک لاکھ سے زیادہ انسانوں کو خطاب فرمایا ۔ اس خطاب کو خطبہ حج الوداع کہا جا تا ہے ۔ جو بنی نوع انسان کےلئے ایک لا زوال جامع منشور اور لائحہ عمل ہے ۔
انفرادی اور اجتماعی سطح پر یہ عظیم خطبہ اصول اخلاقیات اور ضوابط حسن معاشرت ومملکت کا ایسا فکر انگیز دل آویز اور جامع دستور حیات ہے ۔ جو چودہ صدیاں گزرجانے کے بعد آج بھی حرف آخر ہے ۔ اور دائمی انسانی منشور کی حیثیت سے ہمیشہ مشعل راہ رہے گا۔

آپ ﷺ نے فرمایا: لوگو ! اللہ کا ارشاد ہے :
ترجمہ : کہ انسانو! ہم نے تم سب کو ایک ہی مردد و عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہیں جماعتوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو ، تم میں زیادہ عزت اور کرامت والا اللہ کے نزدیک وہ ہے، جو اللہ سے ڈرنے وا لا ہو اور اس کے بندوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا ہو ، اس آیت کی روشنی میں نہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل ہے نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر ، اور نہ کا لا گورے سے افضل ہے نہ گوراکالے سے ، ہاں بزرگی اور فضیلت کا کوئی معیار ہے تو وہ تقویٰ ہے ، انسان سارے ہی آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے بنائے گئے تھے اب فضیلت اور برتری کے سارے دعوے ، خون ومال کے سارے دعوے میرے پیروں تلے روند ے جا چکے ہیں ۔ پھر آپ ﷺ فرمایا ۔

قریش کے لوگو ! ایسا نہ ہو کہ اللہ کے حضور تم اس حال میں آؤ کہ تمھاری گردنوں پر تو دنیا کا بوجھ لدا ہو اور دوسرے لوگ سامان آخرت لے کر پہونچیں ۔ اگر ایسا ہوا تو میں اللہ کے سامنے تمہارے کچھ کام نہ آسکوں گا ۔

قریش کے لوگو ! اللہ نے تمہاری جھوٹی نخوت کو ختم کرڈالا ہے اور باپ دادا کے ناموں پر تمہارے فخر و مباہات کی کوئی گنجائش نہیں رہی ۔

لوگو ! تمہارے خون ومال اور عزتیں ایک دوسرے پرہمیشہ کےلئے قطعاً حرام کردی گئیں ہیں ان چیزوں کی اہمیت ایسی ہی ہے جیسے تمہارے اس دن کی اور اس ماہ مبارک کی (ذی الحجہ ) کی خاص کر اس شہر میں ہے ۔ تم سب اللہ کے آگے جاؤگے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت باز پُرس فرمائے گا۔ دیکھو تم کہیں میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ آپس ہی میں خون خرابہ کرنے لگو ، اگر کسی کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ وہ امانت والے کو امانت پہنچادے ۔

لوگو! ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور سارے مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ اپنے غلاموں کا خیال رکھو ، انہیں وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو ۔ ایسا ہی پہناؤ جیسا تم پہنتے ہو ۔ دور جاہلیت کا سب کچھ میں نے اپنے پیروں سے رونددیا ۔ زمانہ جاہلیت کے خون کے سارے انتقام اب کا لعدم ہیں ، پہلا انتقام جسے میں کا لعدم قرار دیتا ہوں میرے اپنے خاندان کا ہے ربیعة بن الحارث کے دودھ پیتے بیٹے کا خون جسے بنو ہذیل نے مارڈالا تھا، اب میں اس کومعاف کرتا ہوں ۔ دور جاہلیت کا سود اب کوئی حیثیت نہیں رکھتا پہلا سود جسے میں چھوڑ تا ہوں ، وہ عباس بن عبد المطلب کے خاندان کا سود ہے۔

لوگو! اللہ نے ہر حقدار کو اس کا حق خود دے دیا ہے ، اب کو ئی کسی وارث کےلئے وصیت نہ کرے ،ہر بچہ اسی کی طرف منسوب کیا جائے گا جس کے بستر پر پیدا ہو گا ، اور جس پر حرام کاری ثابت ہو اس کی سزا پتھر ہے قرض اور عاریتاً لی ہوئی چیز واپس کرنی چاہئے، تحفے کا بدلہ دینا چائے ، اور جو کو ئی کسی کاضامن بنے وہ تاوان اداکرے۔ اور کسی کےلئے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھا ئی سے کچھ لے ، سوائے اس کے جس پر اس کا بھائی راضی ہو او ر خوشی خوشی دے ۔ خود پر اور ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔

عورت کےلئے یہ جائز نہیں کہ اپنے شوہر کا مال اس کی اجازت کے بغیرکسی کو دے ۔ دیکھو ! تمہارے اوپر تمہاری عورتوں کے حقوق ہیں اسی طرح ان پر تمہارے حقوق ہیں ۔ تمہارا یہ حق ہے کہ وہ اپنے پاس کسی ایسے شخص کو نہ بلائیں جسے تم پسند نہیں کرتے ہو اور وہ کوئی خیانت نہ کریں ، کوئی کام کھلی بے حیائی کا نہ کریں۔

لوگو! عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرو وہ تمہاری پابند ہیں اور خود اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتیں ، چنانچہ ان کے بارے میں اللہ کا خوف رکھو کہ تم نے انہیں اللہ کے نام پر حاصل کیا ہے اور اسی کے نام پر وہ تمھارے لئے حلال ہوئیں ہیں ۔

لوگو! میری بات سمجھ لو ، میں نے حق تبلیغ ادا کردیا ہے ۔ میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز چھوڑ ے جارہا ہوں کہ اگرتم اس پر قائم رہے کبھی گمراہ نہ ہو گے اور وہ اللہ کی کتاب ہے اور ہاں دیکھو دینی معاملات میں غلو سے بچنا کہ تم سے پہلے والے لوگ غلو کی وجہ سے ہلاک کردیئے گئے تھے ۔

لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو ، پانچ وقت کی نماز ادا کرو ، اپنے مالوں کی زکاة خوش دلی سے نکالو ، ماہ رمضان کے روزے رکھو ، اللہ کے گھر کا حج کرو اولل امر کی اطاعت کرو ۔ مجرم خود ہی اپنے جرم کا ذمہ دار ہے . نہ باپ کے بدلے بیٹا پکڑاجائے گا اور نہ بیٹے کا بدلہ باپ سے لیا جائے گا ۔
لو گو سنو ! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ احکام اور باتیں ان لوگوں کو بتادیں جو یہاں نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ کوئی غیر موجود آدمی تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔
لو گو! تم سے میرے بارے میں اللہ کے یہاں سوال ہوگا تم کیا جواب دوگے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ آپ نے امانت دین پہنچادی اور آپ نے حق رسالت ادا فرمادیا اور ہماری خیر خواہی فرمائی، یہ سن کر حضور ﷺ نے اپنی انگشت آسمان کی جانب اٹھائی اور لوگوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تین بار فرمایا۔ اللہ گواہ رہنا ! اللہ گواہ رہنا ! اللہ گواہ رہنا ۔

نیسویں صدی کے نصف آخر میں توسیعی وتعمیری کام کے بعد حرم شریف کو دنیا کی منفردو خو بصورت ترین عمارت کہا جا سکتا ہے یا دور حاضر کے نام ور ماہرین آرکی ٹکچرس کے فنی صلاحیتیوں کی منہ بولتی تصویر اور اس صدی کا اہم کار نامہ ۔ انیسوی صدی کے نصف آخرمیں امت اسلام کا اپنے دین کی طرف لوٹنا اور عالم اسلام کا کروڑوں کی تعداد میں حرمین شریفین اور مقدس مقامات سے والہانہ محبت میں یہاں امنڈ پڑنا اس توسیعی کا م کی سخت ضرورت بن گئی تھی ۔ سعودی حکومت نے اسلام کےلئے خلوص اور فراخ دلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کام کو بحسن و خوبی انجام دیا ہے ۔ ایک بیان کے مطابق ۴۴ بلین پونڈ اب تک اس تعمیر نو پر خرچ کیا جا چکا ہے ۔
حرم شریف کا ائریا ۲۰۹۲۰۰اسکویر میٹر ہے ۔ نماز پڑھنے کےلئے تیار شدہ جگہ ۳۵۶۰۰۰اسکوایر میٹر ہے جہاں تقریبا دس لاکھ افراد ایک ساتھ نماز ادا کر سکتے ہیں۔ ۸۹ میٹر اونچی سات میناریں بنائی گئی ہیں اور ۶ بجلی کے ایکسی لیٹر لگائے گئے ہیں. حرم شریف میں سنگ مرمر کے ۴۷۱ کالم قدیم دور کے موجود تھے ۔ سنگ مرمر کے مزید ۴۹۲ کالم کا اضافہ کیا گیا ہے .دھوپ میں ٹھنڈا رہنے والے سنگ مرمر کا فرش اور ٹھنڈی ہوا کےلئے کچھ دوری پر ۴۰۰۰۰ ٹن کا ایر کنڈیشن پلانٹ لگایا گیا ہے .ایک ملین نمازیوں کو وقت پر حرم شریف تک آمد ورفت کےلئے متعدد خوب صورت سرنگیں اور اچھی سڑکیں تیار کی گئی ہیں ۔
مکة المکرمہ
اللہ تبارک وتعالٰی نے اس عظمت والے شہر کی قسم کھائی ہے:
لَا اقسم بھذا البلد : البلد:۱
ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نیک بیوی اور بہت فرمان بردار فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی آمد کی برکت سے آباد ہوا انہوں نے یہاں اسلامی شان و شوکت والے، اللہ کا پہلا گھر (خانۂ کعبہ) تعمیر کیا جس کی طرف منہ کرکے ساری دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں، اس گھر کی اور اس شہر کی بے شمار برکتیں ہیں۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کے وقت یہ شہر بت پرستی کا مرکز بنا ہوا تھا۔ جہالت کا دور دورہ تھا کعبہ میں ۳۶۰ بُت رکھے تھے لوگ برہنہ ہو کر کعبہ کا طواف کیا کرتے تھے۔ کعبہ دنیا کا وہ واحد مقدس مقام ہے جہاں کبھی اللہ کی عبادت نہیں رکتی، اس شہر میں ہر سال تقریباً بیس لاکھ سے زیادہ مسلمان فریضۂ حج ادا کرنے کے لئے یہاں پہنچتے ہیں سال بھر عمرہ کرنے والے کا تسلسل رہتا ہے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ حج مکہ مکرمہ میں ہی پورا ہوجاتا ہے ۔ لیکن جس شخص کو اللہ تعالٰی نے حج کی عظیم سعادت نصیب فرمائی ہو تو وہ مدینہ نبویہ کی زیارت سے کیوں محروم رہے ۔ یہ اللہ کے پیارے رسول ﷺ کا شہر ہے جہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کا گرم جوشی اور تہہ دل سے استقبال کیا آپ ﷺ پر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیا اور یہاں سے ہی اسلامی فتوحات اور اسلام کی نشر واشاعت کی شروعات ہوئیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر کی محبت کے لئے دعا فرمائی :

اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃِ کَحُبِّنَا مَکَّۃ اَوْ اَشَدُّ (متفق علیہ)
توفیق ہو تو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کریں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
لا تَشُدُ الرِحال إلاإلی ثَلاثَة مَساجِد ، المسجد الحرام ، ومسجدي ھذا ، والمسجد الأقصی (متفق علیہ)

ترجمہ : آپ ﷺ نے فر مایا : (کہ دینی ہدف کےلئے) سفر تین مسجدوں کے علاوہ کہیں کا نہ کیا جائے :
مسجدحرام ، اور یہ میری مسجد ، اور مسجد اقصٰی ۔

مدینہ منورہ کے دوران قیام جہاں تک ممکن ہو ساری نمازیں باجماعت اور تمام سنتیں اور نوافل مسجد نبوی میں ادا کریں اس کی بڑی فضیلت ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا ۔

صَلاة فی مَسجدی ھَذا أفضل مِن ألف صَلاة فِیما سِواہ الا المسجد الحرام و صلاة فی المسجد الحرام افضل من مائة ألف صلاة فیما سواہ (متفق علیہ)
ترجمہ : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ تمام مساجد سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے ۔
قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت:
نبی اکر م ﷺ کی قبرکی زیارت کریں انتہائی ادب واحترام کے ساتھ دھیمی آواز میں سلام کہیں اور درود پڑھیں۔

۶إِنَّ اللہ وَمَلائکتہ یُصلون عَلی النَّبی یا آیھا الذین آمنو صَلواعَلیہ وَسَلمِّوا تَسلِیما ( سورة الاحزاب آیة ۵)

ترجمہ: اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجو۔ آپ نے فرمایا:

من صلی علی صلاة واحدة صلی اللہ علیہ بھا عشر (امام مسلم)
ترجمہ: جس نے مجھ پر ایک بار سلام بھیجا اللہ تعالیٰ نے ا س پر دس بار سلام بھیجا۔
اس کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھیں اور پھر سیدنا عمر بن خطاب پر سلام پڑھیں۔

جنت کا باغیچہ:
اس جگہ کی فضیلت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما بین بیتی و منبری روضہ من ریاض الجنةء (متفق علیہ)
آپ نے فرمایا میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔

بقیع الغرقد کی زیارت : یہ مدینہ منورہ کا قبرستان ہے ۔ حاجی وہاں جائیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تمام مؤمنین کے لئے استغفار اور بلندیٔ درجات کی دعا کریں ۔ (مسلم) اور قبرستان میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے :
السلام علی أھل الدیار من المؤْمنین و المسلمین ، واِنا اِن شاءاللہ بکم للاحقون نساَل اللہ لنا ولکم العافیہ (اس حدیث کو اِمام احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے )
ترجمہ : اے اہل دیار مومن اور مسلمانوں تم پر سلام ہو ، ہم بھی انشاءاللہ تم سے ملنے والے ہیں۔
اللہ تعالٰی سے اپنی اور تمہاری عافیت کےلئے ہم دعا کرتے ہیں ۔

شہدائے اَحد کی زیارت : حاجی شہدائے اَحد کی قبروں کے پاس جائیں، ان کے درجات کی بلندی کے لئے بھی یہی دعا پڑھنا مسنون ہے: السلام علی أھل الدیار من المؤْمنین و المسلمین ، واِنا اِن شاءاللہ بکم للاحقون نساَل اللہ لنا ولکم العافیہ ( اِمام احمد اور مسلم )

مسجد قبا ، کی زیارت : حاجی صاحبان با وضوہو کر مسجد قباءجائیں اور وہاں دونفل ادا کریں جس کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہوتا ہے ۔
مَن خَرج حَتی یَأتی ھَذا المَسجِد یَعنی مَسجد قُباء فَیُصلی فِیہ کَان کَعدل عُمرة ( اس حدیث کو امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے )
ترجمہ : جو اپنے گھر سے نکلا اور اس مسجد میں آیا یعنی مسجد قباءآیا اور اس میں نماز پڑھی اس نے عمرہ کرنے کا ثواب حاصل کیا ۔

مسجد القبلتین : یہ وہ مسجد ہے جہاں نبی ﷺ کو اللہ کی طرف سے نماز کے دوران بیت المقدس کی طرف سے قبلہ بدل کر بیت اللہ مکہ کی طرف قبلہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔
قَد نَری تَقَلُب وَجھک فی السَماء فَلنُولینک قِبلة تَرضَھا فَول وَجھک شَطر المَسجِد الحَرام (سورة البقرة :144)

ترجمہ : اے نبیﷺ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں تو ہم اسی قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ، مسجد حرام کی طرف منہ پھیر دو ، اب جہاں کہیں بھی تم ہو اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ۔

نوٹ : مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ضروری سمجھ کر پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اَئمہ کرام رحمہم اللہ نے ایسا عمل کیا ہے ۔ بلکہ جتنی بھی نمازیں پڑھنے کا موقع مل جائے سعادت ہے ، یاد رہے کہ ان نمازوں کا حج یا عمرہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے ۔ چالیس نمازوں سے متعلق پیش کی جانے والی حدیث ضعیف ہے ۔

مدینہ پہونچ کر آپ ﷺ نے سب سے پہلے ا س عظیم مسجد کی بنیاد رکھی اور اس وقت سے آج تک خلفاء، امراء،حکام اور بادشاہ حسب استطاعت اس مسجد کی تعمیر و توسیع میں حصہ لیتے چلے آئے ہیں مسجد کا قدیم حصہ ۱۲۹۳ہجری میں خلافت عثمانیہ کے دور میں سلطان عبد المجید کی توسیع کردہ ہے ۔
موجودہ مسجد نبوی اس ترقی یافتہ دور کی سب سے خوب صورت مسجد ہے اس موجودہ نیو بلڈنگ کا کام سعودی حکومت نے ۱۹۸۵میں شروع کروایا اور ۲۰۰۰میں اختتام پذیر ہوا ۔ مسجدکا ۸۲۰۰۰اسکوایر میٹر کور ایئریا ہے ۷۶۰۰۰اسکوایر میٹر چھت ہے اور ۶۵۰۰۰۰اسکوئیر میٹر میدان جہاں ایک ساتھ پندرہ لاکھ افراد نماز ادا کر سکتے ہیں. نمازیوں کےلئے انڈر گراؤنڈ ہزاروں ٹویلیٹ اور باتھ روم اور بہت بڑی کار پارکنگ تیار کی گئی ہے جس میں ۲۰۰۰کاریں پارک کی جاسکتی ہیں ۔ مسجد میں دو مینار یں قدیم تھیں ۱۰۵میٹر کی آٹھ مینار وں کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ مسجد میں ۲۷ریموٹ کنٹرول موبائیل ڈوم بنائیں گئے ہیں جن کو ضرورت کے مطابق کھولا اور بند کیا جاسکتا ہے مسجد کے اندرونی صحن میں دھوپ اور بارش سے بچنے کےلئے ۱۲ریموٹ کنٹرول الکٹریک چھتریاں بھی لگائی گئی ہیں، ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت کرنی چاہیے اور ان کی محبت کامطلب ان کے حکم اور ارشادات پر عمل کرنا ہے:
لایومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین
( اس حدیث کو امام بخاری اور امام مسلم سے روایت کیا ہے)
ترجمہ: تم میں سے اس وقت تک کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے نزدیک ماں باپ اولاد اور تمام لوَگوں سے زیادہ عزیز میں نہ ہوجاؤں۔ شاعر نے صحیح کہا ہے۔
محمد کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہوا گر خامی تو سب کچھ نا مکمل ہے

ہر مؤمن اور مسلمان کو سارے جہاں سے زیادہ اور سچی محبت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرنا واجب ہے اور ان کے فرامین کو ماننا دین کی پہلی شرط ہے۔
ہر مسلمان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے بارے میں بھی ضرور کچھ علم ہونا چاہیے۔ خصوصاً آپ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر میں ہوں۔
آپ ﷺ کے لئے قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:
و انک لعلی خلق عظیم و ما ارسلناک إِلا رحمة لعالمین (سورہ القلم: آیتہ۴)
اور عربی شاعرنے مختصر انداز میں کیا خوب کہا ہے:

بلغ العلی بکما لہ کشف الدجی بجمالہ
حسنت جمیع و خصالہ صلوا علی وآلہ

آپ ﷺکا نام محمد ، والد ہ کا نام آمنہ ، والد صاحب کا نام عبد اللہ ، اور جد امجد کا نام عبد المطلب تھا ۔
واقعہ فیل کے ۵۰ یا ۵۵روز بعد ۲۰ یا ۲۲ اپریل ۵۷۱ بمطابق ۹؍ ربیع الاول موسم بہار میں بروز پیر صبح چار بج کر بیس منٹ پر ولادت باسعادت ہوئی ۔آپ کے والد محترم کا انتقال آپ ﷺ کی ولادت سے قبل ہوچکا تھا اور جب آپ ﷺ کی عمر صرف ۶ سال کی تھی تو والدہ محترمہ بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ آپ کے دادا جان نے آپ کی پرورش کی آپ ۸سال کی عمر کو پہنچے تو دادا کا انتقال ہوگیا، پھر آپ کے چچا جان نے آپ کی پرورش کی ، پچپن سے ہی آپ کی ایمانداری اور حسن اخلاق کا چرچا ہونے لگا تھا۔

آپ ﷺ کی اوصاف حمیدہ کی بنا پر حضرت خدیجہ نے آپ ﷺ کو شادی کا پیغام بھیجا اور آپ نے اس کو قبول فرما لیا اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر ۴۰سال اور آپکی ۵ ۲ سال تھی۔

۴۰ سال کی عمر میں آپ ﷺ پر غار حرا میں پہلی بار وحی نازل ہوئی۔ جب آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا شروع کیا اہل مکہ مخالف ہوئے اور انہوں نے طرح طرح کی تکلیفیں دینی شروع کردیں مگر آپ دعوت حق کی تبلیغ پر ثابت قدم رہے حضرت ابوطالب کے انتقال کے بعد آپ دعوت حق کو پہنچانے طائف تشریف لے گئے طائف والوں نے نہ صر ف آپ کی دعوت ٹھکرایا بلکہ مظالم بھی ڈھائے بچوں نے آپ پر پتھر پھینکے آپ ﷺ کو زخمی کردیا آپ کے پیروں سے خون جاری تھا آپ ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے۔ اللہ کے حکم سے مدد کے لئے جبرئیل امین آئے اور فرمایا اے اللہ کے رسول آپ اجازت دیں تو میں اس پوری وادی کو پلٹ دوں۔ مگر آپ ﷺ نے منع فرمادیا اور فرمایا کہ ان کی ہی نسل کے بچے ایک دن دین کے علمبردار ہوں گے۔ آپ ﷺ رحمة اللعالمین تھے سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں۔
کفار مکہ نے آپ ﷺ کا تین سال تک بائی کاٹ کیا مگر ان کی ساری تدابیر فیل ہوگئیں آخر میں انہوں نے آپ کے قتل کا پروگرام بنالیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے کفار مکہ کے اس ناپاک ارادے سے آپ کو محفوظ فرمایا
۵۳ سال کی عمر میں آپ ﷺ نے قریش کے مظالم کی بنا پر اللہ کے حکم سے مکہ المکرمہ سے مدینہ منورہ کےلئے ہجرت فرمائی مسجد قباءکی بنیاد رکھی اور مدینہ پہونچ کر حضرت ابو ایوب انصاری کے گھر کے سامنے نزول فرمایا، اور اسی سال آپﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی اورحضرت عائشہ سے شادی کی ہجرت کے دوسرے سال بیت المقدس سے حرم مکہ کی طرف قبلہ تحویل ہوا ۔
کفار مکہ مسلسل نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو طر ح طرح کی تکلیفیں دیتے رہے یہاں تک کہ ۱۷ ؍رمضان بروز جمعہ جنگ بدر واقع ہوئی اس جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی کفار کو بری طرح شکست ہوئی اور ہجرت کے تیسرے سال کفار مکہ نے اس جنگ کا بدلا لینے کے لئے مدینہ پر چڑھائی کردی اور جنگ احد واقع ہوئی۔ جنگوں میں کافی لوگ شہید ہوئے اور کتنی خواتین بے سہارا ہوئیں ایسے حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حفصہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ حضرت ام سلمہ سے نکاح فرمایا۔

فتح مکہ:
صلح حدیبیہ میں کفار مکہ نے اپنی ساری شرطیں تقریباً منوالیں تھیں اس کے باوجود اس فیصلہ پرثابت قدم نہ رہے اور قدم قدم پر اس کی مخالفت کی تقریبا دو سال بعد آپ ﷺ دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ مکہ کے لئے نکلے اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی کفار مکہ اپنی کمزوریوں کی بنا پر مقابلہ کرنے کے لائق نہ رہے اور آپ ﷺ بغیر جنگ کے مکہ داخل ہوگئے اس دن آپ نے عام معافی کا اعلان فرمادیا جسے رہتی دنیاتک یاد رکھا جا ئے گا. جن لوگوں نے آپ پر ظلم وستم کئے مکہ سے نکال دیا آج وہ سب آپﷺ اور مسلمانوں کے ماتحت تھے اس دن آپ بدلالینے کے لئے ان کو قتل کرواسکتے تھے یا قیدی بنا سکتے تھے مگر آپ سارے جہاں کے لئے سراپا رحمت ہی رحمت تھے آپ ﷺ نے سب کو معاف فرمادیا۔ آپ ﷺ نے کعبہ کے تمام بت گرادیئے اور کعبہ کو صرف اللہ کی عبادت کے لئے خاص کردیا۔
۱۰ ھ میں آپ ﷺ نے بہت سارے مسلمانوں کی حج کے لئے قیادت فرمائی یہی حج، حج الوداع تھا۔ اور مدینہ واپسی کے بعد ۲۹؍ صفر کو مرض وفات کا آغاز ہوا اور ۱۲؍ ربیع الاول بروز پیر ۶۳ برس کی عمر میں آپ نے وصال فرمایا: آپ ﷺ کی اولاد میں حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے سوا آپ ﷺ کی ساری اولاد حضرت خدیجہ سے تھیں چارصاحبزادیاں حضرت زینب رضی اللہ عنھا ،حضرت رقیة رضی اللہ عنھا ، حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنھا ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا، تین صاحبزادے تھے ، حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ، حضرت قاسم رضی اللہ عنہ۔

حج اور عمرہ کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل اصطلاحات اور مقامات کو جاننا بہت ضروری ہے ۔
میقات : مکہ کے چاروں طرف وہ مقامات جہاں سے ( مکہ جانے والوں کےلئے ) حج یا عمرہ کا احرام باندھنا واجب ہے ۔
حرم : مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک زمین حرمت و تقدس کی وجہ سے حرم کہلاتی ہے اس کی حدود پر نشان لگے ہیں ، اس میں محرم کےلئے درخت اور گھاس کاٹنا منع ہے ۔
احرام : حج یا عمر ہ کے ارکان میں سے احرام پہلا رکن ہے ، ( عام زبان میں حج یا عمرہ کرتے وقت مرد حضرات دو سفید چادر استعمال کرتے ہیں اس کو احرام کہتے ہیں ) عمرہ کی نیت سے جسم پر صرف ایک بلا سلا ہوا تہبند باندھنا ،اور ایک چادر کو اوڑھ کر( خواتین کا اپنے عام لباس میں ) تلبیہ کہنا اور بہت سی حلال اشیا کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا نا م احرام ہے ، یا حج یا عمرہ کے لباس کا نام ہے ۔
تلبیہ :وہ دعا جو حالت احرام میں با ر بار پڑھتے ہیں ۔

لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ 


ترجمہ: میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، بے شک ساری تعریف تیرے لئے ہیں ساری نعمت تیری ہیں بادشاہت تیری ہے تیرا کوئی ساجھی نہیں ۔


اضطباع : احرام کی اوپر والی چادر کو دا ہنی بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا ۔
طواف قدوم : مکہ مکرمہ میں داخل ہونے پر پہلا طواف ہے ۔
طواف زیارت: یہ حج کا رکن ہے اور وقوف عرفہ اور مزدلفہ سے آنے کے بعد کیا جاتا ہے ۔
طواف وداع : یہ بیت اللہ سےرخصت ہوتےوقت کیا جاتا ہےاور باہر سےآنے والو ں پر واجب ہے۔
طواف عمرہ : یہ عمرہ کرنے والوں پر فرض ہے ۔
رمل : طواف کے پہلے تیں چکروں میں چھوٹے چھوٹے قد رکھتے ہوئے تیز چلنا ۔
استلام : حجر اسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا اور ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا چھڑی سے اشارہ کرنا ۔
سعی : صفا اورمروہ پہاڑیوں کےدرمیان سات چکر لگانا، صفا سے مروہ تک جانے کو ایک چکر شمار کیا جا تا ہے۔
رمی: جمرات ( شیطانوں ) کو کنکریاں مارنا ۔
ھدی: وہ جانور جس کی حاجی قربانی کریں گے ۔

کیوں کہ حج بہت اہم فریضہ ہے جس کے لئے ضرورت کے مطابق مال اور صحت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ دورحاضر سائینسی علوم اور ٹکنالوجی کا دور ہے اللہ کے فضل و کرم سے طبی سہولتیں اور مواصلات کے وسائل بہت آسان اور وافر ہیں ۔ ساتھ ہی اللہ کی توفیق اور( مینجمنٹ )یعنی امور کی صحیح ترتیبات نے بڑی بڑی مشکلوں کو آسان کر دیا ۔ اس بارے میں کچھ باتیں اور احتیاطی تدابیر قابل غور ہیں ۔
  دوران سفر خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کےلئے اپنے ملک یا شہر سے چلتے وقت انجکشن لگوانا نہ بھولیں۔
  اپنے سامان سفر میں چند ضروری دوائیں جیسے سردرد اور بخار کےلئے اسپرین، پیراسیٹا مول وغیرہ اور پیٹ کے درد کیلئے کوئی مفید دوا اور کچھ اینٹی بایو ٹک اور اینٹی سیپٹک ، اور ویسلین وغیرہ بھی ساتھ رکھ لیں ۔
  اس پورے سفر میں عبادت کرنے کے بعد اپنے آرام کا خیال رکھیں تاکہ آپ کی صحت ٹھیک رہے اور اور ارکان حج با آسانی مکمل کرسکیں۔
  بھیڑ کی جگہوں اور غیر ضروری بازار میں جانے سے پرہیزکریں ۔
اپنے ساتھ صرف ضرورت کے مطابق نقد ریال رکھیں اور باقی پیسے اور قیمتی اشیاءہوٹل کے لاکر میں رکھیں۔
  مشرو بات ، لبن ، جوس، اور پانی بکثر ت پئیں ، کھلے رکھے ہوئے ، مشکوک اور خراب کھانوں سے پرہیز کریں ۔
  اپنے ساتھ معلم کا کارڈ ، اپنی رہائش کا پتہ اور اپنا آئی ڈی کارڈ جس میں نام پتہ اور متعلقہ لوگوں کا فون نمبر ضرور ساتھ رکھیں ۔
صفائی کا بہت خیال رکھیں ، ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا ۔
الطُّھُورُ شَطرُ الایِمَان ۔
ترجمہ : صفائی طہارت اور پاکیزگی آدھا ایمان ہے ۔
عربی زبان سے محبت اور اس کی عظمت کا اعتراف ہرمسلمان کے دل میں ہے اور کیوں نہ ہو عربی زبان ہمارے نبی ﷺکی زبان ہے اللہ کا کلام اور اس کے نبیﷺ کے فرامین اسی زبان میں ہیں احادیث اور تمام فقہی مسائل اور مراجع اسی زبان میں ہیں مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ جہاں آپ کو حج کےلئے جانا ہے وہاں کی یہی زباں ہے اس لئے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عربی جانتے ہیں ۔
آپ کو دوران سفر لکھنے پڑھنے اور گفتگو کی ضرورت پیش آئے گی اگر آپ عربی زبان نہیں جانتے ہیں تو قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے حسب ضرورت مندر جہ ذیل الفاظ اور ان کے معنی ضرور سیکھ لیں تاکہ آپ وہاں کسی مترجم کے محتاج نہ بنے رہیں ۔

صفر Sifar Zero
واحد Wahid One
إثنان Esnen Two
ثلاثة Salasa Three
أربعة Arba Four
خمسة Khamsa Five
ستة Sitta Six
سبعة Saba Seven
ثمانیة Thamania Eight
تسعة Tis,a Nine
عشرة Asharah Ten
إحد عشرة Ahda Ashara Eleven
إثناعشرة Asna Asharah Twelve
ثلاثة عشر Salasa Asharah Thirteen
أربعةعشر Arbata Ashr Fourteen
خمسة عشر Khamsa ta Ashr Fifteen
ستة عشر Sitata Asar Sixteen
سبعة عشر Sabata Ashr Seventeen
ثمانیة عشر Smaniata Ashr Eighteen
تسعة عشر Tisata Ashr Nineteen
عشرون Eshroon Twenty
ثلاثون Slasun Thirty
أربعون Arba aun Forty
خمسون Khamsun Fifty
ستون Sittun Sixty
سبعون Sabun Seventy
ثمانون Samanun Eighty
تسعون Tisaun Ninty
مائة Maiat Hundred
ألف Alaf Thousand
نعم Na’ am Yes
لا La No
طیب Taiab Good
جید Jayad Good
غیر جید Gher jayad Bad
جمیل Jamil Beautiful
من Man Who
کیف Kaifa How
أین Ainh Were
کم Kam How much
لماذا Laemaza Why
ھنا Henah Here
اي A'yi Wich
فی Fee In
ھذا Hada This
وسادة Vsada Pillow
سریر Sarir Bed
مکوة Mikvah Iron
مصباح Misbah Lamp
ساعة Sa’a Clock
بیت Bait House
منزل Manzil Home
غرفة Ghurfa Room
باب Babun Door
مفتاح Miftah Key
شباک Shubbak Window
حمام Hamam Toilet

Get a free Hajj & Umrah pocket guide

Call us

020 7734 9590

Email us

info@nabiltours.com

Visit us

London, W1B 5TG

Umrah packages

+44 20 7734 9590

IATA Protected
ATOL Protected
Ministry of Hajj Authorised