Umrah Guide Urdu

ہماری دلی تمنا اورسچی خواہش ہے کہ آ پ کا عمرہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق ہو تاکہ اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے ۔ اور دعا ہے کہ آپ کے اس نیک عمل کے ذریعہ آپ کے تمام گناہ معاف ہو جائیں اور آپ کی تمام دلی مرادیں اور نیک خواہشات بر آئیں اور آپ کا یہ نیک اور مبارک سفر خیرو عافیت کے ساتھ بہت اچھا اور آسان سے آسان تر طے ہو جائے اس اہم مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہاں چند گزارشات کا ذکر کرنا ضروری ہوگا ۔
۱-ہمارے عمرہ کا مقصد ارادہ اور نیت صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی ہو۔
۲- ہمارا عمرہ صرف اللہ کے حکم اور اس کے رسول کی سنت کے مطابق ہو۔
۳- ہمارے اس مقدس سفر پر صرف حلال کمائی خرچ ہو۔
۴- ہمیں دوران سفر جہاں تک ممکن ہو نمازیں با جماعت ادا کرنی چاہئیں۔
۵- ہمیں اس اہم عبادت عمرہ کے دوران ہر حال میں بد زبانی، تکبّر اور غصہ پر کنٹرول رکھنا ہوگا۔
۶- دوران سفرکا رروائی میں جو بھی وقت لگے یا دشواریاں در پیش ہوں، اس میں صبر وتحمل اور حسن اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں اور اس وقت آپ اپنی امتِ مسلمہ، اور اسلامی بھائی چارگی کی بہترین مثال ثابت ہوں۔
۷- اس مقدس سفر میں ہمیں شیطان اور اس کے دھوکوں سے اپنے کو محفوظ رکھنا۔
برادران اسلام! شیطان کا یہ چیلنج ہے کہ وہ کسی بھی طرح ہمیں اللہ کی راہ سے اور تمام اچھے کاموں سے روکے گا، اور ہر قسم کے مکر وفریب اور دھوکے سے برائی کی طرف دھکیلے گا۔
قَالَ فَبِمَآ آغْوَیْتَنِیْ لَآقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطِکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِّنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَ عَنْ اَیْمانِھِمْ وَ عْنْ شَمَآءِلِھِمْ، وَ لَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمُ شٰکِرِیْنَ
(سورۃ الاعراف: ۱۶)
ترجمہ: اس (شیطان) نے کہا اس لئے کہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں کہ میں ان کے (گمراہ کرنے ) لئے تیری سیدھی راہ پر بیٹھوں گا۔ پھر ان پر حملہ کروں گا ان کے آگے سے بھی اور ان کے پیچھے سے بھی اور ان دائیں جانب سے بھی اور ان کے بائیں جانب سے بھی اور ان میں سے تو اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔
جب مسلمان کسی سواری پر سوار ہو تو یہ دعا پڑھے ۔
سُبْحَانَ الْذِي سَخَّرَلَنَا ھٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہ مُقْرِنِیْنَ وَ إِنَّا إلي رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ۰ اَللّٰھُمَّ إنِّي أَسْئَلُکَ فِيْ سَفَرِنَا ھٰذَا الْبِرُّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنْ الْعَمْلِ مَا تَرضَي، اَللّٰھُمَّ ھَوْنَ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ھٰذَا واطوعَنَا بُعْدَہ، اَللّٰھُمَّ أنتَ الصَّاحبُ فی السفرِوَ الْخلِیْفَۃُ فِیْ الأھْلِ، ھٰذا اللّٰھُمَّ إِنِّي أَعُوْذُبِکَ مَنْ وَ عَثَاءِ السَّفرِ وکأبۃ الْمَنْظَرِ وَ سُوْءِ الْمُنَقَلَبِ فِيْ الْمَالِ وَالْأھْلِ (المسلم)
ترجمہ : پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لئے اس سواری کو تابع کر دیا اور ہم اس کو تابع نہیں کر سکتے تھے ، اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں اے اللہ میں اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ اور ایسے عمل کا سوال کرتا ہوں جس کو تو پسند کرتا ہے اے اللہ ہمارے اس سفر کو آسان کردے اور ہم سے اس کی طوالت کم کر دے اے اللہ تو سفر میں ہمارا ساتھی ہے اور گھر کا نگہبان ہے اے اللہ سفر کی تکلیف اور بری چیزوں کے دیکھنے اور مال اور اہل میں بری حالت میں لوٹنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔
عمرہ کے لیے بّری راستوں سے جو لوگ مکہ آئیں گے نبی نے مندرجہ ذیل میقات مقر ر فرمائے ہیں۔
۱- ذوالحلیفہ : اس کو وادیٔ عتیق یا بئرعلی بھی کہتے ہیں مدینہ اور اس کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ، جو مدینہ سے ۵ میل دور مکہ کی طرف ہے اس وقت یہاں بہت بڑی اور خوب صورت مسجد ہے ۔
۲ جحفہ : یہ مکہ سے ۷۸۱ کیلومیٹر دور شام اور مصر کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
۳ قرن المنازل : یہ مکہ سے ۴۹ کیلو میٹر دور نجد کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
۴ یلملم : یہ اہل یمن اور جنوب کی طرف سے آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔
۵ ذات عرق : مکہ سے شمال مشرق میں ۴۹ کیلو میٹر دور ی پر واقع ہے یہ ایران ، عراق اور اس طرف سے مکہ آنے والوں کےلئے میقات ہے ۔

جہاز سے آنے والوں کا میقات
جو لوگ ہوائی جہاز سے جدہ آتے ہیں ان کےلئے سنت طریقہ یہ ہے کہ سفر شروع ہونے سے قبل غسل وغیرہ کرلیں ، جب میقات کے قریب آئیں تو احرام باندھ لیں ، جہاز میں سوار ہونے سے پہلے بھی احرام باندھا جاسکتا ہے لیکن احرام کی نیت نہ کریں اور نہ ہی لبیک پکاریں ۔ جب میقات پر پہونچیں تو احرام کی نیت کریں اور لبیک پکارنا شروع کردیں ۔

عمرہ کی فضیلت
العُمْرَۃُ إلي الْعُمْرۃِ کَفَّارَہٌ لِمَا بَيْنَھُمَا، وَالْحَجِّ الْمَبْرُ وْر لَيَسَ لہ جَزَا إلْا الْجَنَّۃ
(البخاری و المسلم)
ترجمہ: ایک عمرة دوسرے عمرة کے درمیان والے وقت کےلئے کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزاءجنت ہی ہے۔
عمرہ کے وجوب کی دلیل کے لئے قرآن کا فرمان ہے :
وَإتموا الحَج وَالعُمرةَ للہ ۔
ترجمہ : اور حج اور عمرہ اللہ کےلئے پورا کرو
بوڑھے ، کمزور مرد اور عورت کا حج و عمرہ جہاد کے برابر ہے(نسائی )

عمرہ کے ارکان
۱- احرام باندھ کر نیت کرنا اور ( اللّٰھم لَّبیک عمرہ ) کہنا ۔
بیت اللہ کا طواف کرنا ۔
۳ صفا اور مروہ کی سعی کرنا ۔ ( بخاری و مسلم )
عمرہ کے واجبات
۱- میقات سے احرام باندھنا ۔ ۲- سرکے بال چھوٹے کروانا یا منڈوانا ۔ (بخاری و مسلم )

جب عمرہ کا احرام باندھنا چاہیں تو مسنون طریقہ یہ ہے میقات پر یا میقات سے پہلے ناخن تراشیں، زیر ناف اور بغلوں کے بال صاف کریں غسل کریں اچھی خوشبو داڑھی اور جسم پر لگائیں اور دو سفید چادریں لے لیں، ایک چادر تہبند کی طرح باندھ لیں اور ایک چادر کو اوڑھ لیں، خواتین اپنا عام لباس ہی پہنیں ، ہاں نقاب ، برقع اور دستانے نہ پہنیں اور میقات پر اگر فرض نماز کا وقت ہو تو نماز پڑھیں اور پھر لبیک عمرہ کہہ کر نیت کرلیں اور تلبیہ کہنا شروع کردیں :
لَبّیک الَلَّہُم لَبَّیک لَبّیک لَا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیک إِنَّ الحَمْدَ وَالنَّعمَةَ لَکَ وَالمُلْک لاَ شَرِیکَ لَک ۔
میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، بے شک ساری تعریف تیرے لئے ہیں ۔ساری نعمت تیری ہیں بادشاہت تیری ہے تیرا کوئی ساجھی نہیں ۔
نوٹ : اگر عمرہ کرنے والے کو مکہ مکرمہ تک پہنچنے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا خدشہ ہو تو اسے نیت کرتے وقت یہ کہنا چاہئے ۔

(اَللّٰھُمَّ مَحَلّي حَیْثُ حَبَسْتَنِي)
پھر اگر وہ مکہ نہ پہنچ سکا تو بغیر دم دیئے حلال ہو جائے گا ، یعنی احرام کھول سکتا ہے ۔ اور اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی ۔ (بخاری )
حرم شریف داخل ہوتے وقت پہلے دایاں پیر رکھیں اور یہ دعا پڑھیں :
اللہم افتح لی ابواب رحمتک (مسلم )
اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھولدے ۔

طواف کا طریقہ
حجر اسود سے طواف شروع کرنا چاہئے حجر اسود کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر بوسہ دینا چاہئے ، اگر بوسہ دینا مشکل ہو تو ہاتھ سے یا چھڑی سے چھونا چاہئے اگر یہ بھی مشکل ہو تو صرف بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ہاتھ سے اشارہ کرنا کافی ہے، اور یہ دعا پڑھنی چاہئے ۔
بِسْمِ اللہ واللہ آکْبَرْ اللّٰھُمَّ إیْمَاناً بِکَ وَ تَصْدِیْقاً بِکِتَابِکَ وَفَاءِ بِعَھْدِک وَ إِتِّبَاعاً لِسُنَّۃِ نَبِیْکَ مُحَمَّد صَلَّی اللّہُ وَ عَلَیْہِ وَ سَلَّم-
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے اللہ بہت بڑا ہے اے اللہ تجھ پر ایمان لاتے ہوئے، تیرے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ، اور تیرے نبی کی سنت کو پورا کرتے ہوئے.
سُبْحَانَ اللہ والْحَمْدُ للہ وَ لَا إلٰہَ إلَّا اللہ واللہ اکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃ إلَّا بِاللہِ ۔
(ابن ماجہ)
پھر بیت اللہ کو اپنے بائیں طرف کر کے طواف شرع کردیجئے ، رکن یمانی کو صرف چھوئیں . بوسہ نہ دیں ، دیگر طواف کرنے والوں کو تکلیف نہ دیجئے ، بیت اللہ کا طواف کرتے وقت ہر چکر میں رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مستحب ہے۔
رَبَّنا آَتِنا فِی الدُنیا حَسَنة وَّ فِي الْاٰخِرَۃِ ِ حَسَنَۃًّ وقِنَا عَذَابَ النَّار
( سورہ بقرہ)
اس کے علاوہ طواف کے ہر چکر کی کوئی دعا مخصوص نہیں ہے ، جو چاہیں اللہ سے دعائیں کرسکتے ہیں ۔جب کبھی حجر اسود کے پاس سے گزریں تکبیر کہیں ۔ یاد رہے طواف کرتے ہوئے اضطباع کریں یعنی طواف کرتے وقت دائیں کندھے کو کھلا رکھیں ۔ اور رمل کریں یعنی قدم نزدیک نزدیک رکھتے ہوئے تیزی سے چلیں ، یہ پہلے تین چکروں میں کریں گے باقی چار چکروں میں رمل نہیں ہے ۔
دو رکعت نماز طواف کے بعد
طواف کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھیں، اللہ تعالی نے فرما یا :
وَالتَّخَذُوْا مِنْ مُّقَامِ إِبْرَاھِیْمَ مُصَلّٰی (البقرة : ) ۱۲۵
اگر مقام ابراہیم کے نزدیک جگہ نہیں مل سکے توحرم شریف میں جہاں بھی جگہ مل جائے وہیں نماز پڑھ لیں اس کے بعد پیٹ بھر کر زمزم پیئں .کچھ سر پر ڈالیں اور یہ دعا پڑھیں ۔
اللّھُمَّ إنّی أَسْأ َلُکَ عِلماً نَافِعاً وَ رِزْقاً وَاسِعاً و شِفَاعاً مِنْ کُل دَاءٍ۔ )(بخاري

صفا اور مروہ کے درمیاں سعی
طواف مکمل کرکے صفا کی طرف جائیں اور صفاپر یہ دعا پڑھنا مستحب ہے.
إنَّ الصَّفا وَالمَروَةَ مِن شَعائِرِاللّہ فَمَن حَجَّ البیتَ اواعتَمَر فَلا جُنَاحَ عَلیہ أن یَطوفَ بِھِما وَمن تَطَوَّعَ خَیراً فإن اللہ شَاکِر عَلِیم (البقر: )۱۵۸
پھر قبلہ رخ ہو کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں ، اور تین بار یہ دعا پڑھیں
(لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَ اللہ اَکبَرُ لَا اِلٰہَ الَّا اللہ وَحدَہ لَا شَرِیکَ لَہ۔ لَہ المُلکُ وَلَہ الحَمدُ یُحیِي وَیَمُوتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیئٍ قَدِیْر لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وَحْدَہ انجَزُ وَعْدَہ وَ نَصَرَعَبْدُہ وَھَزَمُ الاَحْزَابِ وَحْدَہ (متفق علیہ)
اور ان مذکورہ دعاؤں کے درمیان میں قبلہ رخ بیٹھ کر ہاتھ اٹھائیں اور جو دل چاہے دعا کریں ، اور یہی دعا تین مرتبہ اللہ اکبر کہہ کر مروہ پر بھی پڑہیں ۔ ( مسلم ، ابوداود ، نسائی ) یاد رہے کہ مردوں کیلئے دو سبز نشانوں کے درمیان دوڑ نا مستحب ہے ۔ ( نسائی، ابن ماجہ) اور یاد رہے صفا سے مروہ کی طرف جانا ایک چکر ہے اور وہاں سے واپس آنا دوسرا چکرشمار ہوگا ۔
صفا اور مروہ کی سعی کے سات چکر مکمل ہو جا نے کے بعد اگر مرد ہو تو سر کے بال منڈ وائیں یا چھوٹے کروائیں ، خواتین اپنی چوٹی کے ایک پوروہ کے برابر بال کاٹیں ۔ اس کے بعد آپ احرام کھولدیں ۔
اب آپ کا عمرہ مکمل ہو چکا ہے۔

۱- جسم کے کسی حصے سے بال اکھاڑنا، کاٹنا یا مونڈنا۔
۲- ناخن تراشنا۔
۳- خوشبولگانا۔
۴- مرد کا اپنے سرکو ڈھانپنا۔
۵- مرد کا سلے ہوئے کپڑے پہننا، اور عورت کو دستانے اور نقاب پہننا۔ (بخاری)

نوٹ : اگر ان مذکورہ پانچ ممنوع کاموں میں سے کوئی کام غلطی سے یا بھول کر ہو جائے تو اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے مگر جو جان بوجھ کر ان میں سے کسی کا ارتکاب کرے تو اس پر یہ کفارہ ہے:
تین دن کے روزے رکھنا یا چھ مسکینو ں کو ایک وقت کا کھانا کھلانا، یا دم دینا ۔
فمن کان منکم مریضا او بہ اذی من راسہ ففدیة من صیام او صدقة او نسک ( ال عمران)
۶-جنگلی یا میدانی جانوروں کا شکار کرنا یا شکار کرنے میں مدد کرنا، اس کا کفارہ اسی جانورکی مثل صدقہ دینا ہے۔
یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتَلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ، وَ مَنْ قَتَلَہ مِنْکُمْ مُّتَعَمِداً فَجَزَأئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیَا، بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْعَدْلُ ذٰلِکَ صِیَاماً (المائدہ:) ۹۶
۷- حالت احرام میں منگنی کرنا یا کروانا ، نکاح کرنا یا کروانا اس کا کفارہ صرف توبہ اور استغفار کرنا ہے ۔ ) (مسلم
لا ینکح المحرم ولا یخطب

۸- بیوی سے بوس وکنار کرنا اگر انزال نہ ہو تو اس پر توبہ اور استغفار کرنا ہے ، اور اگر انزال ہوجائے تو اس کا کفارہ ایک گائے یا اونٹ ذبح کرکے گوشت مکہ کے فقیروں میں تقسیم کرنا ہے۔

اَلْحَجُّ اَشُھُرٌ مَّعْلُوْمٰتٌ، فَمَنَ فَرَض فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ، وَ لَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ، وَ مَ تفْعَلُوْ مِنْ خَیْرٍ یَّعَلَمُہُ اللہ، وَ تَزَوَّدُوْا فَإِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوٰی وَ اتَّقُوْنِ یٰاُولٰي الْاَلْبَابِ (سورۃ البقرۃ: ) ۱۹۷
نوٹ: اگر کسی خاتون کو حالت احرام میں حیض یا نفاس وغیرہ کا خون آجائے تو وہ بیت اللہ کے طواف کے علاوہ حج اور عمرہ کے باقی تمام ارکان اور واجبات ادا کرے گی۔ (بخاری، مسلم) دوران سفر خواتین حیض کو روکنے کے لئے دوا کا استعمال کرسکتی ہیں ; بلکہ حالت احرام میں دانتوں کی صفائی کے لئے ٹوتھ برش اور جسم کی صفائی کے لئے صابن بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کعبہ: کعبہ، یا خانٔہ کعبہ ، قبلہ ، یا بیت اللہ ، اللہ کا گھر جس کا حج اور طواف کرتے ہیں ، ساری دنیا کے مسلمان جس کی طرف کو منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں،اور جس مسجد میں یہ گھر واقع ہے اس کو مسجد حرام یا حرم شریف کہتے ہیں۔
رکن یمانی : کعبہ کا جنوب مغربی کونہ جو یمن کی طرف واقع ہے ۔
حجر اسود : کالا پتھر جو جنت سے آیا ہوا ہے ، اس کا رنگ دودھ کی طرح سفید تھا ،لیکن بنی آدم کے گناہوں نے اس کو سیاہ کر دیا ، یہ بیت اللہ کے جنوب مشرقی کونے میں چاندی کے حلقہ میں پیوست کرکے لگا یا ہوا ہے
ملتزم : حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازے کے ما بین دیوار جس سے لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے ۔
حطیم : خانٔہ کعبہ کی شمالی جانب زمین کا وہ حصہ ہے جو چھوٹی دیوار سے باونڈری ہے جس کے اندر سے گزر کرطواف نہیں کیا جا سکتا ہے اور اس کے اندر نماز پڑھنا کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کے مساوی ہے ۔
میزاب رحمت : حطیم کے اندر کعبہ کے اوپر سے گرنے والا پرنالہ جہاں دعا قبول ہوتی ہے۔
مقام ابراہیم : یہ جنت سے آیا ہوا وہ پتھر جس کے اوپر کھڑے ہوکر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر کی تھی ۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کا ذکر یوں فرمایا:
و اتخذو من مقامِ ابراھیم مصلیٰ (البقر:) ۱۲۵
مطاف : کعبہ کے چاروں طرف کی جگہ جہاں طواف کیا جاتا ہے ۔
بئر زمزم : حرم شریف کے اندر پانی کا کنواں جس کا پانی پینا ثواب اور بہت سی بیماریوں کے لئے باعث شفا ہے
صفا : حرم شریف کے اندر کعبہ کے جنوب میں ایک پہاڑی ہے جہاں سے سعی شروع ہوتی ہے ۔
مروہ : حرم شریف کے اندر کعبہ کے جنوب میں ایک پہاڑی ہے جہاں پرسعی ختم ہو تی ہے ۔
منیٰ: حرم شریف سے تین میل کے فاصلے پر وادی ہے جہاں حاجی عرفات سے قبل اور مزدلفہ کے بعد قیام کرتے ہیں۔
جمرات : منیٰ میں وہ تیں ستون جن کو حاجی کنکریاں مارتے ہیں ۔
عرفات: منیٰ سے تقریبا ۸ میل دور بہت بڑا میدان ہے جہاں ۹ ذی ا لحجہ کو حجاج حاضر ہو تے ہیں۔ اور یہاں کی حاضری حج کا بہت اہم رکن ہے۔
مزدلفہ : منیٰ سے عرفات کی طرف تین میل کے فاصلے پر وادی ہے جہاں حجاج عرفات سے واپسی پر رات کو قیام کرتے ہیں
وادی محسر : مزدلفہ سے منیٰ کی طرف میدان جہاں اللہ تعالی نے یمن کے ظالم باد شاہ ابرہہ اور اس کے لشکر کو برباد کیا تھا (جو کعبہ کو گرانا چاہتا تھا )یہاں سے حجاج کو تیزی سے گزر جانا چاہئے ۔
مسجد خیف: یہ منٰی میں جمرات سے قریب بہت بڑی اور خوبصورت ایک یادگار مسجد ہے جہاں انبیا ئے کرام نے نما زیں ادا کیں ہیں۔
مسجد نمرہ: یہ بہت بڑی اور خوبصورت مسجد آدھی میدان عرفات میں اور آدھی عرفات کی حد سے باہر ہے۔
مسجد مشعر الحرام: یہ خوبصورت مسجد مزدلفہ میں ہے اس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمایا ہے۔
فاذا افضتم من عرفات فاذکروا اللہ عند المشعرالحرام ( البقرة: ) ۱۹۸
مسجد عائشہ یہ بہت بڑی اور خوبصورت مسجد مکہ میں مدینہ روڈ پر ہے اس کو مسجد تنعیم اور مسجد میقات بھی کہتے ہیں۔
حج اور عمرہ کی تعلیمات کو سمجھنے کے لئے مندرجہ ذیل اصطلاحات اور مقامات کو جاننا بہت ضروری ہے ۔
میقات : مکہ کے چاروں طرف وہ مقامات جہاں سے (مکہ جانے والو ں کےلئے ) حج یا عمرہ کا احرام باندھنا واجب ہے ۔
حرم : مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک زمین حرمت و تقدس کی وجہ سے حرم کہلاتی ہے اس کی حدود پر نشان لگے ہیں ، اس میں محرم کےلئے درخت اور گھاس کاٹنا منع ہے ۔
احرام : حج یا عمر ہ کے ارکان میں سے احرام پہلا رکن ہے ، ( عام زبان میں حج یا عمرہ کرتے وقت مرد حضرات دو سفید چادر استعمال کرتے ہیں اس کو احرام کہتے ہیں ) عمرہ کی نیت سے جسم پر صرف ایک بلا سلا ہوا تہبند باندھنا، اور ایک چادر کو اوڑھ کرتلبیہ کہنا اور بہت سی حلال اشیا کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا نا م احرام ہے ، یا حج یا عمرہ کے لباس کا نام ہے ۔( خواتین اپنا لباس استعمال کریں گی۔ جس میں وہ اپنامنہ اور ہاتھوں کو کھلا رکھیں گی۔)
تلبیہ : وہ دعا جو حالت احرام میں با ر بار پڑھتے ہیں ۔
لَبَّیْکَ اَللّٰھُمَّ لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ۔
ترجمہ: میں حاضر ہوں ، اے اللہ میں حاضر ہوں ، تیر ا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں ، بے شک ساری تعریف تیرے لئے ہیں ساری نعمت تیری ہیں بادشاہت تیری ہے تیرا کوئی ساجھی نہیں ۔
اضطباع : احرام کی اوپر والی چادر کو دا ئیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا ۔
طواف قدوم : مکہ مکرمہ میں داخل ہونے پر پہلا طواف ہے ۔
طواف زیارت: یہ حج کا رکن ہے اور وقوف عرفہ اور مزدلفہ سے آنے کے بعد کیا جاتا ہے ۔
طواف وداع : یہ بیت اللہ سے رخصت ہوتے وقت کیا جاتا ہے اور باہر سے آنے والو ں پر واجب ہے ۔
طواف عمرہ : یہ عمرہ کرنے والوں پر فرض ہے ۔
رمل : طواف کے پہلے تیں چکروں میں چھوٹے چھوٹے قد رکھتے ہوئے تیز چلنا ۔
استلام : حجر اسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا اور ممکن نہ ہو تو ہاتھ یا چھڑی سے اشارہ کرنا ۔
سعی : صفا اور مروہ پہاڑیوں کے درمیان سات چکر لگانا ، (صفا سے مروہ تک جانے کو ایک چکر شمار کیا جا تا ہے)
رمی: جمرات ( شیطانوں ) کو کنکریاں مارنا ۔
ھدی: وہ جانور جس کی حاجی قربانی کریں گے ۔
بیت اللہ میں نماز ادا کرنے کا ثواب ایک لاکھ گنا زیادہ ہے بیت اللہ کا طواف کرنا بہت بڑی عبادت ہے اور وہاں بیٹھ کر اللہ کے گھر کو دیکھنا بھی عبادت ہے اگر آپ کو وقت ملے تو آپ بیت مولدالنبی ، جنت المعليٰ، مسجد جن، غار حرا، جبل ثور، مسجد عائشہ، مسجد خیف، مسجد المشعر الحرام، مسجد نمرہ، عرفات کا میدان، مزدلفہ، منیٰ کی زیارتیں کریں مگر اپنے قیمتی وقت کی قدر کریں اور اس کو عبادت میں لگائیں۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ام القری مکہ مکرمہ میں مرکز ابحاث الحج، ووزارت الحج اورمؤسسۃ الحجاج، اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں رہ کر آج تک ہر سال دینی مرشد کی حیثیت سے حجاج بیت اللہ کی خدمات کا شرف ملتا رہا ہے۔ ان تجربات کے پیش نظر عازمین عمرہ کے لئے قرآن و سنت کے مطابق بہت آسان اور مختصر کتابچہ تیار کرنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اس سعی کو قبول فرمائے اور میرے جدامجد مولانا محمد زکریا صاحب سراج التفاسیراور والد محترم ڈاکٹر عبدالقدوس ، جنہوں نے دینی تعلیم کے لئے مجھے مکۃ المکرمہ بھیجا، اس کا اجر عظیم عطافرمائے، عازمین عمرہ سے میری اپیل ہے کہ مقامات مقدسہ پر دعاؤں میں امت مسلمہ ، اپنے والدین ، لواحقین اور دوستوں کے ساتھ مؤ لف کوبھی یاد رکھیں۔ اللہ کا خصوصی فضل و کرم اور توفیق ہم سب کے شامل حال رہے۔
دعاوں کا طالب
کنور شکیل احمد
نومبر ۲۰۰۲مطابق ۱؍ رمضان ۱۴۲۳ ہجری
یہ بات بالکل واضح ہے کہ حج مکہ مکرمہ میں ہی پورا ہوجاتا ہے ۔ لیکن جس شخص کو اللہ تعالی نے حج کی عظیم سعادت نصیب فرمائی ہو تو وہ مدینہ نبویہ کی زیارت سے کیوں محروم رہے ۔ یہ اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شہر ہے جہاں کے لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گرم جوشی اور تہہ دل سے استقبال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنا جان و مال سب کچھ قربان کردیا اور یہیں سے ہی اسلامی فتوحات اور اسلام کی نشر واشاعت کی شروعات ہوئی ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شہر کی محبت کے لئے دعا فرمائی :
اَللّٰھُمَّ حَبِّبْ إِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃِ کَحُبِّنَا مَکَّۃ اَوْ اَشَدُّ (متفق علیہ)
مسجد نبوی:
توفیق ہو تو مسجد نبوی کی زیارت کی نیت کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا:
لا تَشُدُ الرِحال إلاإلی ثَلاثَة مَساجِد ، المسجد الحرام ، ومسجدي ھذا ، والمسجد الأقصی (امام بخاری اور امام مسلم)
ترجمہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : (کہ دینی ہدف کےلئے) سفر تین مسجدوں کے علاوہ کہیں کا نہ کیا جائے : مسجدحرام ، اور یہ میری مسجد ، اور مسجد اقصیٰ ۔ مدینہ منورہ کے دوران قیام جہاں تک ممکن ہو ساری نمازیں باجماعت اور تمام سنتیں اور نوافل مسجد نبوی میں ادا کریں اس کی بڑی فضیلت ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
صَلاة فی مَسجدی ھَذا أفضل مِن ألف صَلاة فِیما سِواہ الا المسجد الحرام و صلاة فی المسجد الحرام افضل من مائة ألف صلاة فیما سواہ (متفق علیہ)
ترجمہ : میری اس مسجد میں نماز پڑھنا مسجد حرام کے علاوہ تمام مساجد سے ایک ہزار گنا زیادہ ہے ۔
جب مسجد میں داخل ہوں تو یہ دعا پڑھیں۔
اَللّٰھُمَّ افْتَحْ لِي اَبْوابَ رَحَمَتِکَ
اور دو رکعت نماز تحیۃ المسجد ادا کریں۔

قبرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت:
نبی اکر م ﷺ کی قبرکی زیارت کریں انتہائی ادب واحترام کے ساتھ دھیمی آواز میں سلام کہیں اور درود پڑھیں۔

إِنَّ اللہ وَمَلائکة یُصلون عَلی النبي یا آیھا الذین آمنو صَلواعَلیہ وَسَلمِّوا تَسلِیما ( سورة الاحزاب آیة )۵۶
ترجمہ: اللہ اور اس کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجتے ہیں اے ایمان والوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجو۔ آپ نے فرمایا:
من صلی علی صلاة واحدة صلی اللہ علیہ بھا عشر (امام مسلم)
ترجمہ: جس نے مجھ پر ایک بار سلام بھیجا اللہ تعالیٰ نے ا س پر دس بار سلام بھیجا۔ اس کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سلام پڑھیں اور پھر سیدنا عمر بن خطاب پر سلام پڑھیں۔

جنت کا باغیچہ:
اس جگہ کی فضیلت کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما بین بیتی و منبری روضہ من ریاض الجنة (متفق علیہ)
آپ نے فرمایا میرے منبر اور میرے گھر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔

بقیع الغرقد کی زیارت : یہ مدینہ منورہ کا قبرستان ہے ۔ حاجی وہاں جائیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اور تمام مؤمنین کےلئےاستغفاراور بلندی درجات کی دعا کریں ۔ (مسلم) اور قبرستان میں داخل ہوتے وقت یہ دعا پڑھنا مستحب ہے ۔
السلام علی أھل الدیار من المؤْمنین و المسلمین ، واِنا اِن شاءاللہ بکم للاحقون نساَل اللہ لنا ولکم العافیہ ( اِمام احمد اور مسلم )
(اس حدیث کو اِمام احمد اور مسلم نے روایت کیا ہے ) ترجمہ : اے اہل دیار مومن اور مسلمانوں تم پر سلام ہو ، ہم بھی ا ن شاءاللہ تم سے ملنے والے ہیں اللہ تعالی سے اپنی اور تمہاری عافیت کےلئے ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں ۔
شہدائے اَحد کی زیارت : حاجی شہدائے اَحد کی قبروں کے پاس جائیں ، ان کے درجات کی بلندی کے لئے بھی یہی دعا پڑھنا مسنون ہے :
السلام علی أھل الدیارمن المؤمنین و المسلمین ، وإِنا اِنْ شَاءاللہ بِکم للاحِقُون نَسأل اللہ لَنا وَلکم العَافِیہ ( اِمام احمد اور مسلم )
مسجد قباء کی زیارت : حاجی صاحبان با وضوہو کر مسجد قباءجائیں اور وہاں دونفل ادا کریں جس کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہو تا ہے ۔
مَن خَرج حَتی یَأتی ھَذا المَسجِد یَعنی مَسجد قُباء فَیُصلی فِیہ کَان کَعدل عُمرة ( اس حدیث کو امام احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے )
ترجمہ : جو اپنے گھر سے نکلا اور اس مسجد میں آیا یعنی مسجد قباءآیا اور اس میں نماز پڑھی اس نے عمرہ کرنے کا ثواب حاصل کیا ۔

مسجد القبلتین : یہ وہ مسجد ہے جہاں نبی ﷺ کو نماز کے دوران بیت المقدس کی طرف سے قبلہ بدل کر بیت اللہ مکہ کی طرف قبلہ کرنے کا حکم اللہ کی طرف سے دیا گیا ۔
قَد نَری تَقَلُب وَجھک فی السَماء فَلنُوینک قِبلة تَرضَھا فَول وَجھک شَطر المَسجِد الحَرام (سورة البقرة الآیة ) ۱۴۴
ترجمہ : اے نبیﷺ تمہارے منہ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں تو ہم اسی قبلہ کی طرف پھیر دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ، مسجد حرام کی طرف منہ پھیر دو ، اب جہاں کہیں بھی تم ہو اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو ۔
نوٹ : مدینہ منورہ میں قیام کے دوران مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ضروری سمجھ کر پڑھنا کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اَئمہ کرام رحمہم اللہ نے ایسا عمل کیا ہے ۔ بلکہ جتنی بھی نمازیں پڑھنے کا موقع مل جائے سعادت ہے ، یاد رہے کہ ان نمازوں کا حج یا عمرہ سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور اس بارے میں پیش کی جانے والی حدیث ضعیف ہے ۔

کیوں کہ عمرہ بہت اہم فریضہ ہے جس کے لئے ضرورت کے مطابق مال اور صحت کا ہونا بہت ضروری ہے ۔ دورحاضر سائنسی علوم اور ٹکنالوجی کا دور ہے اللہ کے فضل و کرم سے طبی سہولتیں اور مواصلات کے وسائل بہت آسان اور وافر ہیں ۔ ساتھ ہی اللہ کی توفیق اور (مینجمنٹ) یعنی امور کی صحیح ترتیبات نے بڑی بڑی مشکلوں کو آسان کر دیا ۔ اس بارے میں کچھ باتیں اور احتیاطی تدابیر قابل غور ہیں ۔
۱- دوران سفر خطرناک بیماریوں سے محفوظ رہنے کےلئے اپنے ملک یا شہر سے چلتے وقت انجکشن لگوانا نہ بھولیں۔
۲- اپنے سامان سفر میں چند ضروری دوائیں جیسے سردرد اور بخار کےلئے اسپرین پیراسیٹا مول وغیرہ اور پیٹ کے درد کے لئے کوئی مفید دوا اور کچھ اینٹی بایو ٹک اور اینٹی سیپٹک ، اور ویسلین وغیرہ بھی ساتھ رکھ لیں ۔
۳- اس پورے سفر میں عبادت کرنے کے بعد اپنے آرام کا خیال رکھیں تاکہ آپ کی صحت ٹھیک رہے اور آپ ارکان عمرہ با آسانی مکمل کرسکیں
۴ - بھیڑ کی جگہوں اور غیر ضروری بازار میں جانے سے پرہیز کریں ۔
۵ -اپنے ساتھ صرف ضرورت کے مطابق نقد ریال رکھیں اور باقی پیسے اور قیمتی اشیاءہوٹل کے لاکر میں رکھیں۔
۶- مشرو بات ، لبن ، جوس، اور پانی بکثر ت پئیں ، کھلے رکھے ہوئے مشکوک اور خراب کھانوں سے پرہیز کریں۔
عربی زبان سے محبت اور اس کی عظمت کا اعتراف ہرمسلمان کے دل میں ہے اور کیوں نہ ہو عربی زبان ہمارے نبی ﷺکی زبان ہے اللہ کا کلام اور اس کے نبیﷺ کے فرامین اسی زبان میں ہیں احادیث اور تمام فقہی مسائل اور مراجع اسی زبان میں ہیں مکہ المکرمہ اور مدینہ منورہ جہاں آپ کو حج یا عمرہ کےلئے جانا ہے وہاں کی یہی زباں ہے اس لئے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو عربی جانتے ہیں ۔
آپ کو دوران سفر لکھنے پڑھنے اور گفتگو کی ضرورت پیش آئے گی اگر آپ عربی زبان نہیں جانتے ہیں تو قدرے مشکل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس لئے حسب ضرورت مندرجہ ذیل الفاظ اور ان کے معنی ضرور سیکھ لیں تاکہ آپ وہاں کسی مترجم کے محتاج نہ بنے رہیں ۔
صفر Sifar Zero
واحد Wahid One
إثنان Esnen Two
ثلاثة Salasa Three
أربعة Arba Four
خمسة Khamsa Five
ستة Sitta Six
سبعة Saba Seven
ثمانیة Thamania Eight
تسعة Tis,a Nine
عشرة Asharah Ten
إحد عشرة Ahda Ashara Eleven
إثناعشرة Asna Asharah Twelve
ثلاثة عشر Salasa Asharah Thirteen
أربعةعشر Arbata Ashr Fourteen
خمسة عشر Khamsa ta Ashr Fifteen
ستة عشر Sitata Asar Sixteen
سبعة عشر Sabata Ashr Seventeen
ثمانیة عشر Smaniata Ashr Eighteen
تسعة عشر Tisata Ashr Nineteen
عشرون Eshroon Twenty
ثلاثون Slasun Thirty
أربعون Arba aun Forty
خمسون Khamsun Fifty
ستون Sittun Sixty
سبعون Sabun Seventy
ثمانون Samanun Eighty
تسعون Tisaun Ninty
مائة Maiat Hundred
ألف Alaf Thousand
نعم Na’ am Yes
لا La No
طیب Taiab Good
جید Jayad Good
غیر جید Gher jayad Bad
جمیل Jamil Beautiful
من Man Who
کیف Kaifa How
أین Ainh Were
کم Kam How much
لماذا Laemaza Why
ھنا Henah Here
اي A'yi Wich
فی Fee In
ھذا Hada This
وسادة Vsada Pillow
سریر Sarir Bed
مکوة Mikvah Iron
مصباح Misbah Lamp
ساعة Sa’a Clock
بیت Bait House
منزل Manzil Home
غرفة Ghurfa Room
باب Babun Door
مفتاح Miftah Key
شباک Shubbak Window
حمام Hamam Toilet

Get a free Hajj & Umrah pocket guide

Call us

020 7734 9590

Email us

info@nabiltours.com

Visit us

London, W1B 5TG

Umrah packages

+44 20 7734 9590

IATA Protected
ATOL Protected
Ministry of Hajj Authorised